Tafseer-e-Usmani - Saad : 29
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
كِتٰبٌ : ایک کتاب اَنْزَلْنٰهُ : ہم نے اسے نازل کیا اِلَيْكَ : آپ کی طرف مُبٰرَكٌ : مبارک لِّيَدَّبَّرُوْٓا : تاکہ وہ غور کریں اٰيٰتِهٖ : اس کی آیات وَلِيَتَذَكَّرَ : اور تاکہ نصیحت پکڑیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تاکہ دھیان کریں لوگ اس کی باتیں اور تاکہ سمجھیں عقل والے3
3  یعنی جب نیک اور بد کا انجام ایک نہیں ہوسکتا تو ضرور تھا کہ کوئی کتاب ہدایت مآب حق تعالیٰ کی طرف سے آئے جو لوگوں کو خوب معقول طریقہ سے ان کے انجام پر آگاہ کر دے۔ چناچہ اس وقت یہ کتاب آئی جس کو قرآن مبین کہتے ہیں۔ جس کے الفاظ، حروف، نقوش اور معانی و مضامین ہر چیز میں برکت ہے۔ اور جو اسی غرض سے اتاری گئی ہے کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل رکھنے والے اس کی نصیحتوں سے منتفع ہوں چناچہ اس آیت سے پہلے ہی آیت میں دیکھ لو، کس قدر صاف، فطری اور معقول طریقہ سے مسئلہ معاد کو حل کیا ہے کہ تھوڑی عقل والا بھی غور کرے تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ (تنبیہ) شاید " تدبر " سے قوت علمیہ کی اور " تذکر " سے قوت عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہو۔ یہ سب باتیں حضرت داؤد کے تذکرہ کے ذیل میں آگئی تھی۔ آگے پھر ان کے قصہ کی تکمیل فرماتے ہیں۔
Top