Tafseer-e-Usmani - Al-A'raaf : 28
قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ
قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم لَيْسَ : نہیں بِيْ : مجھ میں سَفَاهَةٌ : کوئی بیوقوفی وَّلٰكِنِّيْ : اور لیکن میں رَسُوْلٌ : بھیجا ہوا مِّنْ : سے رَّبِّ : رب الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہان
اور جب کرتے ہیں کوئی برا کام تو کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا اسی طرح کرتے اپنے باپ دادوں کو اور اللہ نے بھی ہم کو یہ حکم کیا ہے تو کہہ دے کہ اللہ حکم نہیں کرتا برے کام کا کیوں لگاتے ہو اللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں4
4 یعنی برے اور بےحیائی کے کاموں مثلاً مرد و عورت کا برہنہ طواف کرنا، جو ان آیات کی شان نزول ہے جن سے عقل سلیم اور فطرت صحیحہ نفرت کرتی ہے۔ خدائے قدوس کی شان نہیں کہ ان کی تعلیم دے وہ تو پاکی اور حیا کا سرچشمہ ہے۔ گندے اور بےحیائی کے کاموں کا حکم کیسے دے سکتا ہے اصل میں بےحیائی اور برائی کی تعلیم دینے والے وہ شیاطین ہیں جن کو انہوں نے اپنا رفیق بنا رکھا ہے۔ دیکھو تمہارے سب سے پہلے ماں باپ کو شیطان نے فریب دیکر برہنہ کرایا۔ مگر وہ شرم و حیاء کے مارے درختوں کے پتے بدن پر لپیٹنے لگے معلوم ہوا کر برہنگی شیطان کی جانب سے اور ستر کی کوشش تمہارے باپ کی طرف سے ہوئی۔ پھر برہنہ طواف کرنے پر باپ دادوں کی سند لانا کیسے صحیح ہوسکتا ہے نیز بقول حضرت شاہ صاحب سن چکے کہ پہلے باپ نے شیطان کا فریب کھایا پھر باپ کی کیوں سند لاتے ہو یہ کس قدر بےحیائی کی بات ہے کہ جو کام شیطان کے حکم سے ہو رہا ہے اسے کہا جائے کہ ہم کو خدا نے یہ حکم دیا ہے۔ العیاذ باللہ۔
Top