54. Al-Qamarالقمر
The Moon · Meccan · 55 ayahs · 3 rukus · مولانا عبد السلام بھٹوی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ﴿1﴾
قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴿2﴾
اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے۔وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ﴿3﴾
اور انھوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام انجام کو پہنچنے والا ہے۔وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ﴿4﴾
اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس کئی خبریں آئی ہیں، جن میں باز آنے کا سامان ہے۔حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ﴿5﴾
کامل دانائی کی بات ہے، پھر (بھی) ڈرانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ﴿6﴾
سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ﴿7﴾
ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ﴿8﴾
پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے، کافر کہیں گے یہ بڑا مشکل دن ہے۔كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ﴿9﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور انھوں نے کہا دیوانہ ہے اور جھڑک دیا گیا۔فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ﴿10﴾
تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک میں مغلوب ہوں، سو تو بدلہ لے۔فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ﴿11﴾
تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے، ایسے پانی کے ساتھ جو زور سے برسنے والا تھا۔وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ﴿12﴾
اور زمین کو چشموں کے ساتھ پھاڑ دیا، تو تمام پانی مل (کر ایک ہو) گیا، اس کام کے لیے جو طے ہوچکا تھا۔وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ﴿13﴾
اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ﴿14﴾
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿15﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿16﴾
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا ؟وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿17﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿18﴾
عاد نے جھٹلادیا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا ؟اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ﴿19﴾
بیشک ہم نے ان پر ایک تند آندھی بھیجی، ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ﴿20﴾
لوگوں کو اکھاڑ پھینکتی تھی، جیسے وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿21﴾
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا ؟وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿22﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ﴿23﴾
ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلادیا۔فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ﴿24﴾
پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں ؟ یقینا ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴿25﴾
کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ﴿26﴾
عنقریب وہ کل جان لیں گے کہ بہت جھوٹا، متکبر کون ہے ؟اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘﴿27﴾
بیشک ہم یہ اونٹنی ان کی آزمائش کے لیے بھیجنے والے ہیں، سو ان کا انتظار کر اور اچھی طرح صبر کر۔وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ﴿28﴾
اور انھیں بتادے کہ بیشک پانی ان کے درمیان تقسیم ہوگا، پینے کی ہر باری پر حاضر ہوا جائے گا۔فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ﴿29﴾
تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿30﴾
تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا ؟اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ﴿31﴾
بیشک ہم نے ان پر ایک ہی چیخ بھیجی تو وہ باڑ لگانے والے کی کچلی، روندی ہوئی باڑ کی طرح ہوگئے۔وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿32﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ﴿33﴾
لوط کی قوم نے ڈرانے والوں کو جھٹلادیا۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ﴿34﴾
بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی، سوائے لوط کے گھر والوں کے، انھیں ہم نے صبح سے کچھ پہلے نجات دی۔نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ﴿35﴾
اپنی طرف سے انعام کرتے ہوئے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے۔وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ﴿36﴾
اور بلاشبہ یقینا اس نے انھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تو انھوں نے ڈرانے میں شک کیا۔وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿37﴾
اور بلاشبہ یقینا انھوں نے اسے اس کے مہمانوں سے بہکانے کی کوشش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ﴿38﴾
اور بلاشبہ یقینا صبح سویرے ہی ان پر ایک نہ ٹلنے والے عذاب نے حملہ کردیا۔فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿39﴾
سو چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿40﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ﴿41﴾
اور بلاشبہ یقینا فرعون کی آل کے پاس ڈرانے والے آئے۔كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ﴿42﴾
انھوں نے ہماری سب کی سب نشانیوں کو جھٹلادیا تو ہم نے انھیں پکڑا، جیسے اس کی پکڑ ہوتی ہے جو سب پر غالب، بےحد قدرت والا ہو۔اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ﴿43﴾
کیا تمہارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں، یا تمہارے لیے (پہلی) کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے ؟اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ﴿44﴾
یا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں، جو بدلہ لے کر رہنے والے ہیں ؟سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ﴿45﴾
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ﴿46﴾
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ﴿47﴾
یقینا مجرم لوگ بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہیں۔یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴿48﴾
جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ﴿49﴾
بیشک ہم نے جو بھی چیز ہے، ہم نے اسے ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ﴿50﴾
اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپک۔وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿51﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمہارے جیسی کئی جماعتوں کو ہلاک کر ڈالا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ﴿52﴾
اور ہر چیز جسے انھوں نے کیا وہ دفتروں میں درج ہے۔وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ﴿53﴾
اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ﴿54﴾
بیشک بچ کر چلنے والے باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ع﴿55﴾
صدق کی مجلس میں، عظیم بادشاہ کے پاس، جو بےحد قدرت والا ہے۔