54. Al-Qamarالقمر
The Moon · Meccan · 55 ayahs · 3 rukus · امام احمد رضا خان
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ﴿1﴾
پاس آئی قيامت اور شق ہوگیا چاندوَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴿2﴾
اور اگر دیکھیں کوئی نشانی تو منہ پھیرتے اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا،وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ﴿3﴾
اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پاچکا ہےوَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ﴿4﴾
اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں آئیں جن میں کافی روک تھیحِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ﴿5﴾
انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے،فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ﴿6﴾
تو تم ان سے منہ پھیرلو جس دن بلانے والا ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گاخُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ﴿7﴾
نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے گویا وہ ٹڈی ہیں پھیلی ہوئیمُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ﴿8﴾
بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے کافر کہیں گے یہ دن سخت ہے،كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ﴿9﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکافَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ﴿10﴾
تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے،فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ﴿11﴾
تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے زور کے بہتے پانی سےوَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ﴿12﴾
اور زمین چشمے کرکے بہا دی تو دونوں پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھیوَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ﴿13﴾
اور ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور کیلوں والی پر کہتَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ﴿14﴾
ہماری نگاہ کے روبرو بہتی اس کے صلہ میں جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا،وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿15﴾
اور ہم نے اس نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والافَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿16﴾
تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿17﴾
اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والاكَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿18﴾
عاد نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرے ڈر دلانے کے فرماناِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ﴿19﴾
بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہیتَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ﴿20﴾
لوگوں کو یوں دے مارتی تھی کہ گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ (سوکھے تنے) ہیںفَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿21﴾
تو کیا کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿22﴾
اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ﴿23﴾
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایافَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ﴿24﴾
تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیںءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴿25﴾
کیا ہم سب میں سے اس پر بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہےسَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ﴿26﴾
بہت جلد کل جان جائیں گے کون تھا بڑا جھوٹا اترونا (شیخی باز)اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘﴿27﴾
ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو تو اے صا لح! تو راہ دیکھ اور صبر کروَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ﴿28﴾
اور انہیں خبر دے دے کہ پانی ان میں حصوں سے ہے ہر حصہ پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہےفَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ﴿29﴾
تو انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا تو اس نے لے کر اس کی کونچیں کاٹ دیںفَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿30﴾
پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرماناِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ﴿31﴾
بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئیوَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿32﴾
اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ﴿33﴾
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ﴿34﴾
بیشک ہم نے ان پر پتھراؤ بھیجا سوائے لو ط کے گھر والوں کے ہم نے انہیں پچھلے پہر بچالیا،نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ﴿35﴾
اپنے پاس کی نعمت فرماکر، ہم یونہی صلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرےوَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ﴿36﴾
اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیاوَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿37﴾
انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دی (چوپٹ کردیں) فرمایا چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمانوَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ﴿38﴾
اور بیشک صبح تڑکے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیافَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿39﴾
تو چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿40﴾
اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ﴿41﴾
اور بیشک فرعون والوں کے پاس رسول آئےكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ﴿42﴾
انہوں نے ہماری سب نشانیاں جھٹلائیں تو ہم نے ان پر گرفت کی جو ایک عزت والے اور عظیم قدرت والے کی شان تھی،اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ﴿43﴾
کیا تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں یا کتابوں میں تمہاری چھٹی لکھی ہوئی ہےاَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ﴿44﴾
یا یہ کہتے ہیں کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گےسَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ﴿45﴾
اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت اور پیٹھیں پھیردیں گےبَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ﴿46﴾
بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑوی اور سخت کڑویاِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ﴿47﴾
بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیںیَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴿48﴾
جس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا، چکھو دوزخ کی آنچ،اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ﴿49﴾
بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائیوَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ﴿50﴾
اور ہمارا کام تو ایک بات کی بات ہے جیسے پلک مارناوَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿51﴾
اور بیشک ہم نے تمہاری وضع کے ہلاک کردیے تو ہے کوئی دھیان کرنے والاوَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ﴿52﴾
اور انہوں نے جو کچھ کیا سب کتابوں میں ہےوَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ﴿53﴾
اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہےاِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ﴿54﴾
بیشک پرہیزگار باغوں اور نہر میں ہیں،فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ع﴿55﴾
سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور