54. Al-Qamarالقمر
The Moon · Meccan · 55 ayahs · 3 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ﴿1﴾
قیامت قریب آلگی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ﴿2﴾
اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک چلتا ہوا جادو ہے۔وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ﴿3﴾
انہوں نے حق کو جھٹلایا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے چل نکلے۔ اور ہر کام کو آخر کسی ٹھکانے پر ٹک کر رہنا ہے۔وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ﴿4﴾
اور ان لوگوں کو (پچھلی قوموں کے) واقعات کی اتنی خبریں پہنچ چکی ہیں جن میں تنبیہ کا بڑا سامان تھا۔حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ﴿5﴾
دل میں اتر جانے والی دانائی کی باتیں تھیں، پھر بھی یہ تنبیہات (ان پر) کچھ کارگر نہیں ہو رہیں۔فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ﴿6﴾
لہذا (اے پیغمبر) تم بھی ان کی پرواہ مت کرو۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ﴿7﴾
اس دن یہ اپنی آنکھیں جھکائے قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے جیسے ہر طرف پھیلی ہوئی ٹڈیاں۔مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ﴿8﴾
دوڑے جارہے ہوں گے اسی پکارے والے کی طرف۔ یہی کافر (جو قیامت کا انکار کرتے تھے) کہیں گے کہ یہ تو بہت ہی کٹھن دن ہے۔كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ﴿9﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا، اور کہا کہ : یہ دیوانے ہیں، اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ﴿10﴾
اس پر انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : میں بےبس ہوچکا ہوں، اب آپ ہی بدلہ لیجیے۔فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ﴿11﴾
چنانچہ ہم نے ٹوٹ کر برسنے والے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دیے۔وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ﴿12﴾
اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا۔ اور اس طرح (دونوں قسم کا) سارا پانی اس کام کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا۔وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ﴿13﴾
اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ﴿14﴾
جو ہماری نگرانی میں رواں دواں تھی، تاکہ اس (پیغمبر) کا بدلہ لیا جائے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿15﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس کو (عبرت کی) ایک نشانی بنادیا۔ تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿16﴾
اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿17﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿18﴾
عاد کی قوم نے بھی تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا، پھر دیکھ لو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ﴿19﴾
ہم نے ایک مسلسل نحوست کے دن میں ان پر تیز آندھی والی ہوا چھوڑ دی تھی۔تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ﴿20﴾
جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینک دیتی تھی جیسے وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے درخت کے تنے ہوں۔فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿21﴾
اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿22﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ﴿23﴾
ثمود کی قوم نے بھی تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلانے کا رویہ اختیار کیا۔فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ﴿24﴾
چنانچہ کہنے لگے کہ : کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک تنہا آدمی کے پیچھے چل پڑیں ؟ ایسا کریں گے تو یقینا ہم بڑی گمراہی اور دیوانگی میں جاپڑیں گے۔ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴿25﴾
بھلا کیا ہم سارے لوگوں کے درمیان یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر نصیحت نازل کی گئی ؟ نہیں، بلکہ دراصل یہ پرلے درجے کا جھوٹا شیخی باز ہے۔سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ﴿26﴾
(ہم نے پیغمبر صالح ؑ سے کہا کہ) کل ہی انہیں پتہ چل جائے گا کہ پرلے درجے کا جھوٹا شیخی باز کون تھا ؟اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘﴿27﴾
ہم ان کے پاس ان کی آزمائش کے طور پر اونٹنی بھیج رہے ہیں، اس لیے تم انہیں دیکھتے رہو، اور صبر سے کام لو۔وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْ١ۚ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ﴿28﴾
اور ان کو بتادو کہ (کنویں کا) پانی ان کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے۔ ہر پانی کا حق دار اپنی باری میں حاضر ہوگا۔فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ﴿29﴾
پھر انہوں نے اپنے آدمی کو بلایا، چنانچہ اس نے ہاتھ بڑھایا، اور (اونٹنی کو) قتل کر ڈالا۔فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿30﴾
اب سوچو کہ میرا عذاب اور میری تنبیہات کیسی تھیں ؟اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ﴿31﴾
ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی، جس سے وہ ایسے ہو کر رہ گئے جیسے کانٹوں کی روندی ہوئی باڑھ ہوتی ہے۔وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿32﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ﴿33﴾
لوط کی قوم نے (بھی) تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلایا۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ﴿34﴾
ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ﴿35﴾
یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ﴿36﴾
اور لوط نے لوگوں کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا، لیکن وہ ساری تنبیہات میں میکھ نکالتے رہے۔وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿37﴾
اور انہوں نے لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلانے کی کوشش کی۔ جس پر ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ﴿38﴾
اور صبح سویرے ان پر ایسا عذاب حملہ آور ہوا جو کم کر رہ گیا۔فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿39﴾
کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ع﴿40﴾
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ﴿41﴾
اور فرعون کے خاندان کے پاس بھی تنبیہات آئیں۔كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ﴿42﴾
انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا تھا، اس لیے ہم نے ان کو ایسی پکڑ میں لیا جیسی ایک زبردست قدرت والے کی پکڑ ہوتی ہے۔اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ﴿43﴾
کیا تمہارے یہ کافر لوگ ان سے اچھے ہیں، یا تمہارے لیے (خدا کی) کتابوں میں کوئی بےگناہی کا پروانہ لکھا ہوا ہے ؟اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ﴿44﴾
یا ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایسی جمیعت ہیں جو اپنا بچاؤ آپ کرلے گی ؟سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ﴿45﴾
(حقیقت تو یہ ہے کہ) اس جمیعت کو عنقریب شکست ہوجائے گی، اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ﴿46﴾
یہی نہیں، بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت اور زیادہ مصیبت اور کہیں زیادہ کڑوی ہوگی۔اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ﴿47﴾
حقیقت یہ ہے کہ یہ مجرم لوگ بڑی گمراہی اور بےعقلی میں پڑے ہوئے ہیں۔یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴿48﴾
جس دن ان کو منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (اس دن انہیں ہوش آئے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ) چکھو دوزخ کے چھونے کا مزہ۔اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ﴿49﴾
ہم نے ہر چیز کو ناپ تول کے ساتھ پیدا کیا ہے۔وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ﴿50﴾
اور ہمارا حکم بس ایک ہی مرتبہ آنکھ جھپکنے کی طرح (پورا) ہوجاتا ہے۔وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿51﴾
اور تمہارے ہم مشرب لوگوں کو ہم پہلے ہی ہلاک کرچکے ہیں۔ اب بتاؤ ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے ؟وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ﴿52﴾
اور جو جو کام انہوں نے کیے ہیں، وہ سب اعمال ناموں میں درج ہیں۔وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ﴿53﴾
اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ﴿54﴾
(البتہ) جن لوگوں نے تقوی کی روش اپنا رکھی ہے وہ باغات اور نہروں میں ہوں گے۔فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ع﴿55﴾
ایک سچی عزت والی نشست میں۔ اس بادشاہ کے پاس جس کے قبضے میں سارا اقتدار ہے۔