71. Noohنوح

Noah · Meccan · 28 ayahs · 2 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿1﴾

    ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا کہ اپنی قوم کو خبردار کرو، قبل اس کے کہ ان پر کوئی دردناک عذاب آکھڑا ہو۔
  2. قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ﴿2﴾

    (چنانچہ) انہوں نے (اپنی قوم سے) کہا کہ : اے میری قوم ! میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔
  3. اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ﴿3﴾

    کہ اللہ کی عبادت کرو، اور اس سے ڈرو، اور میرا کہنا مانو۔
  4. یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿4﴾

    اللہ تمہارے گناہوں کی مغفرت فرمائے گا، اور تمہیں ایک مقرر وقت تک باقی رکھے گا۔ بیشک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ موخر نہیں ہوتا۔ کاش کہ تم سمجھتے ہوتے۔
  5. قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ﴿5﴾

    (پھر) نوح نے (اللہ تعالیٰ سے) کہا کہ : میرے پروردگار ! میں نے اپنی قوم کو رات دن (حق کی) دعوت دی ہے۔
  6. فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا﴿6﴾

    لیکن میری دعوت کا اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوا کہ وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔
  7. وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ﴿7﴾

    اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی، تاکہ آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں، اپنے کپڑے اپنے ا وپر لپیٹ لیے، اپنی بات پر اڑ رہے، اور تکبر ہی تکبر کا مظاہرہ کرتے رہے۔
  8. ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ﴿8﴾

    پھر میں نے انہیں پکار پکار کر دعوت دی
  9. ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ﴿9﴾

    پھر میں نے ان سے علانیہ بھی بات کی، اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔
  10. فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ﴿10﴾

    چنانچہ میں نے کہا کہ : اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے۔
  11. یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ﴿11﴾

    وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔
  12. وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ﴿12﴾

    اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا، اور تمہاری خاطر نہریں مہیا کردے گا۔
  13. مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ﴿13﴾

    تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے بالکل نہیں ڈرتے ؟
  14. وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا﴿14﴾

    حالانکہ اس نے تمہیں تخلیق کے مختلف مرحلوں سے گزار کر پیدا کیا ہے
  15. اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ﴿15﴾

    کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا فرمائے ہیں ؟
  16. وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا﴿16﴾

    اور ان میں چاند کو نور بنا کر اور سورج کو چراغ بنا کر پیدا کیا ہے۔
  17. وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ﴿17﴾

    اور اللہ نے تمہیں زمین سے بہترین طریقے پر اگایا ہے۔
  18. ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا﴿18﴾

    پھر وہ تمہیں دوبارہ اسی میں بھیج دے گا، اور (وہیں سے پھر) باہر نکال کھڑا کرے گا۔
  19. وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ﴿19﴾

    اور اللہ نے ہی تمہارے لیے زمین کو ایک فرش بنادیا ہے۔
  20. لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ع﴿20﴾

    تاکہ تم اس کے کھلے ہوئے راستوں پر چلو۔
  21. قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ﴿21﴾

    نوح نے کہا : اے میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے میرا کہنا نہیں مانا، اور ان (سرداروں) کے پیچھے چل پڑے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں دیا۔
  22. وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ﴿22﴾

    اور انہوں نے بڑی بھاری مکاری سے کام لیا ہے۔
  23. وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ﴿23﴾

    اور (اپنے آدمیوں سے) کہا ہے کہ : اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا۔ نہ ود اور سواع کو کسی صورت میں چھوڑنا، اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔
  24. وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا﴿24﴾

    اس طرح انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا ہے، لہذا (یا رب) آپ بھی ان کو گمراہی کے سوا کسی اور چیز میں ترقی نہ دیجیے۔
  25. مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا﴿25﴾

    ان لوگوں کے گناہوں کی وجہ ہی سے انہیں غرق کیا گیا، پھر آگ میں داخل کیا گیا، اور انہیں اللہ کو چھوڑ کر کوئی حمایتی میسر نہیں آئے۔
  26. وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا﴿26﴾

    اور نوح نے یہ بھی کہا کہ : میرے پروردگار ! ان کافروں میں سے کوئی ایک باشندہ بھی زمین پر باقی نہ رکھیے۔
  27. اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا﴿27﴾

    اگر آپ ان کو باقی رکھیں گے تو یہ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے، اور ان سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ بدکار اور کافر ہی پیدا ہوگی۔
  28. رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ع﴿28﴾

    میرے پروردگار ! میری بھی بخشش فرما دیجیے، میرے والدین کی بھی، ہر اس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہوا ہے۔ اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کو تباہی کے سوا کوئی اور چیز عطا نہ فرمایے۔