آسان قرآن
Aasan Quran · 35. Faatir · Ayah 42
وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ﴿42﴾
- وَاَقْسَمُوْااور انہوں نے قسم کھائی
- بِاللّٰهِاللہ کی
- جَهْدَ اَيْمَانِهِمْاپنی سخت قسمیں
- لَئِنْاگر
- جَآءَهُمْان کے پاس آئے
- نَذِيْرٌکوئی ڈرانے والا
- لَّيَكُوْنُنَّالبتہ وہ ضرور ہوں گے
- اَهْدٰىزیادہ ہدایت پانے والے
- مِنْ اِحْدَىہر ایک سے
- الْاُمَمِ ۚامت (جمع)
- فَلَمَّاپھر جب
- جَآءَهُمْان کے پاس آیا
- نَذِيْرٌایک نذیر
- مَّا زَادَهُمْنہ ان (میں) زیادہ ہوا
- اِلَّامگر۔ سوائے
- نُفُوْرَۨابدکنا
Translation · Aasan Quran
اور انہوں نے پہلے اللہ کی بڑے زوروں میں قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) آیا تو وہ ہر دوسری امت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے۔ (12) مگر جب ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا آگیا تو اس کے آنے سے ان کی حالت میں اور کوئی ترقی نہیں ہوئی، سوائے اس کے کہ یہ (حق کے راستے سے) اور زیادہ بھاگنے لگے۔
Tafseer · Aasan Quran
12: حضور اقدس ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے کفار قریش نے غالباً یہودیوں اور عیسائیوں سے بحث کرتے ہوئے بڑی جوشیلی قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی پیغمبر آیا تو ہم اور ساری امتوں سے زیادہ اس کی ہدایت پر عمل کریں گے، لیکن جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو وہ آپ کی بات ماننے سے مکر گئے۔