Mafhoom-ul-Quran - Ash-Shura : 31
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَمَآ اَنْتُمْ : اور نہیں تم بِمُعْجِزِيْنَ : عاجز کرنے والے فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ : سے دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور تم زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
31۔ 35۔ اوپر مصیبت کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو کوئی ٹال نہیں سکتا زمین بھر میں کوئی بھاگ بھاگا پھرے جب بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت سے باہر نہیں جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت میں سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی کسی کا یار مددگار بن کر بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال نہیں سکتا اب آگے منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لئے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھاڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے پانی کی پیٹھ پر وہ کشتیاں ٹھہر جائیں یا کوئی مخالف ہوا چلا کر ان کو بالکل ڈبو دے لیکن اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت مقررہ تک ٹل جاتی ہیں مگر قرآن کی آیتوں میں جھوٹے جھگڑے نکالنے والے لوگ یہ خوب یاد رکھیں کہ جب ان کی سزا کا وقت مقررہ آجائے گا تو پھر ایسے لوگ بھاگ کر جانے کو کہیں جگہ نہ پائیں گے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت ان میں سے جن کی سزا کا وقت مقرر آگیا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت سے ان کی سزا کا حال کئی جگہ بیان کیا جا چکا ہے کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچایا پا لیا۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن ؓ شعبہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم ہوجاتا تھا بعض صحابہ نے آپ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے ہیں پھر آپ عبادت میں اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسانات جو کئے ہیں ان کی شکر گزاری میں کوتاہی کیونکر ہوسکتی ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کی شکرگزاری یہی ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کثرت سے کرے۔ عبادت میں تکلیفیں بھی پش آتی ہیں مثلاً جیسے جاڑے میں وضو کی تکلیف گرمی کے روزوں میں پیاس کی تکلیف اس واسطے عبادت کرنے والے شخص کو صاحب صبر بھی ہونا چاہئے تاکہ وہ ان تکلیفوں سے گھبرائے نہیں۔ اسی مطلب کے ادا کرنے کے لئے ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور فرمایا جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کشتیوں کے دریا میں چلنے سے اور اس طرح کی اور باتوں سے خالص اللہ کی عبادت کرنے والے لوگوں کو اللہ کی قدرت کی قدر ہوتی ہے جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں وہ سرے سے اللہ ہی کو نہیں پہنچاتے پھر ایسے لوگوں کو اس کی قدرت کی کیا قدر ہوسکتی ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب قیام النبی ﷺ الیل حتی ترم قد ماہ الخ ص 152 ج 1۔ )
Top