Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 31
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَمَآ اَنْتُمْ : اور نہیں تم بِمُعْجِزِيْنَ : عاجز کرنے والے فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ : سے دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور تم زمین میں کہیں بھاگ کر ہرا نہیں سکتے اور خدا کے سوا تمہارا نہ کوئی کارساز ہے نہ مددگار۔
(31) اور تم زمین میں کہیں بھاگ کر ہرا اور تھکا نہیں سکتے اور اللہ تعالیٰ کے سوا نہ تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ یعنی تم چاہو کہ کہیں بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز کردو اور اس کو تھکا دو یا اس کو ہرادو تو یہ ممکن نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عاجز کرنے والے یعنی جو کچھ ہم نے مصیبتیں مقرر کی ہیں چاہے تم ان سے بھاگ سکو اور ہم کو تھکا دو سو ممکن نہیں اور نہ مددگار کو دفع کرے تم سے عذاب جب کہ وہ اترے تم پر۔ آگے پھر دلائل توحید مذکور ہے۔
Top