Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 56
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائی میں بَلْ : بلکہ لَّا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور (سمجھ) نہیں رکھتے
تو (اس سے) ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں
نسارع لہم فی الخیرت بل لا یشعرون۔ تو ہم ان کو جلدی جلدی زیادہ فائدے دے رہے ہیں (ایسا ہرگز نہیں ہے ( بلکہ اس کی وجہ کا) ان کو احساس نہیں ہے۔ یعنی جو لوگ اپنی گمراہی میں خوش ہیں اور پیغمبروں کا فرمان نہیں مانتے ان کو جھوٹا جانتے ہیں اور جو کچھ ہم ان کو مسلسل دیتے چلے جاتے ہیں اور مال و اولاد کی مدد پہنچا رہے ہیں اس سے ان کا خیال ہوتا ہے کہ ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں اس عطاء میں ان کی بھلائی ہے عزت افزائی ہے اور ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ ان سے خوش ہے ایسا ہرگز نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں ان میں نہ دانش ہے نہ شعور۔ حسن بصری نے فرمایا مؤمن نیکی بھی کرتا ہے اور پھر ڈرتا بھی رہتا ہے اور منافق بدی کرتا ہے اور پھر بےفکر بھی رہتا ہے۔
Top