Anwar-ul-Bayan - Al-Qasas : 54
اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ
اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ يُؤْتَوْنَ : دیا جائے گا انہیں اَجْرَهُمْ : ان کا اجر مَّرَّتَيْنِ : دہرا بِمَا صَبَرُوْا : اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا وَيَدْرَءُوْنَ : اور دور کرتے ہیں بِالْحَسَنَةِ : بھلائی سے السَّيِّئَةَ : برائی کو وَمِمَّا : اور اس سے جو رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے دیا انہیں يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
(28:54) یؤتون مضارع مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر وہ دئیے جائیں گے۔ ان کو دیا جائے گا۔ اتی مادہ۔ مرتین۔ دو مرتبہ ای مرۃ علی ایمانہم بکتابھم ومرۃ علی ایمانہم بالقران ایک اجر ان کی اپنی کتاب پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر قرآن پر ایمان لانیکا۔ بما میں ب سببیہ ہے بما صبروا بوجہ اس امر کے کہ انہوں نے صبر کیا۔ بہ سبب ان کے صبر کرنے کے۔ یعنی بسبب اس صبر و ثابت قدمی کے جو انہوں نے توراۃ و قرآن پر ایمان رکھنے میں۔ یا قرآن پر اس کے نزول سے قبل و نزول کے بعد ایمان رکھنے میں یا مشرکین اور ان کے ہم مذہب اہل کتاب کی ایذاء دہی پر دکھائی۔ یدرء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب درء کے معنی (نیزہ وغیرہ کے) ایک طرف مائل ہوجانے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے قومت درء ہ میں سے اس کی کجی کو درست کردیا اور درءت عنہ می نے اس سے دفع کیا۔ یدرء ون بالحسنۃ السیئۃ وہ نیکی کے ذریعہ برائیوں کا مقابلہ کرتے ہیں یا بدی کا نیکی کے ساتھ دفعیہ کرتے ہیں یا بدی کا توڑ نیکی سے کرتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویدرء عنھا العذاب اور عورت کو سزا سے یہ بات ٹال سکتی ہے۔
Top