Tafseer-e-Majidi - Az-Zukhruf : 89
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ
فَلَمَّا : پس جب جَآءَ : آئے السَّحَرَةُ : جادوگر قَالُوْا : انہوں نے کہا لِفِرْعَوْنَ : فرعون سے اَئِنَّ لَنَا : کیا یقیناً ہمارے لیے لَاَجْرًا : کچھ انعام اِنْ : اگر كُنَّا : ہم ہوئے نَحْنُ : ہم الْغٰلِبِيْنَ : غالب (جمع)
پھر جب جادوگر آئے تو فرعون سے بولے کہ ہم کو کوئی (بھاری) انعام ملے گا نا ؟ اگر ہم غالب رہے،35۔
35۔ طالبان دنیا کی نظر مہارت و کمال فن کے باوجود عموما نفع عاجل ہی پر رہتی ہے۔ برطانوی حکومت کے زمانہ میں ہندوستانیوں سے جب کوئی بڑا کارنمایاں انجام پا جاتا تھا، تو یہ برابر توقع خان بہادری کی، رائے بہادری کی، اور نائف ہڈ کی، اور دوسرے خطابات کی رکھتے تھے۔
Top