Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 14
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا : اور نہیں اختلاف کیا اِلَّا : مگر مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے جو مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ : آگیا ان کے پاس علم بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ : سرکشی کی وجہ سے، ان کے اپنے درمیان وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةٌ : ایک بات سَبَقَتْ : جو پہلے گزرچکی مِنْ رَّبِّكَ : تیرے رب کی طرف سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي : ایک وقت مقرر تک لَّقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الَّذِيْنَ : اور بیشک وہ لوگ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ : جو وارث بنائے گئے کتاب کے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد لَفِيْ شَكٍّ : البتہ شک میں ہیں مِّنْهُ مُرِيْبٍ : اس کی طرف سے بےچین کردینے والے
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
(42:14) بغیا : اسم تمیز۔ ضد۔ زیادتی۔ بغیا بینھم : باہمی ضد (کی بناء پر) ماتفرقوا : ما نافیہ ہے تفرقوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ تفرق (تفعیل) مصدر سے وہ فرقوں میں بہ بٹ گئے۔ لولا۔ اگر نہ ہوتا۔ کیوں نہ۔ لو شرطیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ یہ حرود تحضیض والعرض میں سے ہے (الا، ھلا، لولا، لوما) نیز ملاحظہ ہو 6:43 ۔ کلمۃ۔ حکم ازلی۔ کلمہ کا صحیح ترجمہ بات ہے۔ بات قول کو بھی کہتے ہیں۔ جیسے میری بات سنو۔ اور فعل کو بھی۔ یہ بات کرو۔ قرآن مجید میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلا وعدہ قیامت۔ یعنی قیامت کے دن فیصلہ ہونے کا حکم ازلی (10:19) بمعنی کلام یا جملہ (23:100) ۔ سبقت : ماضی واحد مؤنث غائب۔ سبق باب نصر ، ضرب) مصدر۔ وہ پہلے سے ہوچکی۔ وہ پہلے سے ٹھہرچ کی۔ اجل مسمی۔ موصوف و صفت۔ وقت مقرر۔ میعاد مقرر۔ جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات ایک وقت معین تک کیلئے طے نہ ہوچکی ہوتی (یہ جملہ شرط ہے) لقضی بینھم لام جواب شرط کے لئے۔ قضی ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ قضاء (باب ضرب) فیصلہ کیا گیا۔ تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ یعنی اسی دنیا میں ان کا عملا اور عیانا بدلہ مل گیا ہوتا۔ اور ثوا الکتاب : اور ثوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ ایراث (افعال) مصدر۔ (ورث مادہ) الکتب مفعول ۔ بمعنی تورات۔ انجیل۔ (جن کو) کتاب یعنی تورات و انجیل کا وارث بنایا گیا۔ ان سے مراد وہ یہود و نصاری ہیں جو رسول کریم ﷺ کے ہمعصر تھے۔ ای اہل الکتاب کانوا فی عھد رسول اللہ ﷺ الاکثرون ھم الیہود والنصاری۔ من بعدھم : میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب منکرین سابقین اہل کتاب کی جانب راجع ہے ای من بعد انبیاء ہم۔ لفی۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ شک مریب۔ موصوف و صفت۔ مریب اسم فاعل واحد مذکر ارابۃ (افعال) مصدر۔ (ریب مادہ) بےچین کردینے والا۔ متردد کردینے والا۔ قلق انگیز۔ منہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کی طرف راجع ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ منکرین سابقین جن کے پاس صحیح علم آیا اور وہ باہمی حسد کے باعث مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ انکے بعد جو اہل کتاب (حضور ﷺ کے زمانہ میں) کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اپنے ہی دین اور اپنی ہی کتابوں کی حقیقت کی طرف سے متردد و متذبذب ہیں اور اس پر اس طرح ایمان نہیں رکھتے جو ایمان کا حق ہے۔
Top