Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 14
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا : اور نہیں اختلاف کیا اِلَّا : مگر مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے جو مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ : آگیا ان کے پاس علم بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ : سرکشی کی وجہ سے، ان کے اپنے درمیان وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةٌ : ایک بات سَبَقَتْ : جو پہلے گزرچکی مِنْ رَّبِّكَ : تیرے رب کی طرف سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي : ایک وقت مقرر تک لَّقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الَّذِيْنَ : اور بیشک وہ لوگ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ : جو وارث بنائے گئے کتاب کے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد لَفِيْ شَكٍّ : البتہ شک میں ہیں مِّنْهُ مُرِيْبٍ : اس کی طرف سے بےچین کردینے والے
اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے
13، شرع لکم من الدین، بیان کیا اور طریقہ جاری کیا تمہارے لیے۔ ، ماوصی بہ نوحا، یہ انبیاء شریعت میں سے پہلے ہیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے اے محمد ﷺ آپ کو اور ان کو وصیت کی ایک دین کی۔ ، والذی اوحینا الیک، قرآن اور شرائع اسلام میں سے، وما وصینا بہ ابراھیم و موسیٰ و عیسیٰ ، اس آیت کی توجیہ میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حلال کو حلال کرنا اور حرام کو حرام کرنا مراد ہے اور حکم (رح) فرماتے ہیں کہ ماؤں ، بیٹیوں اور ہوبہنوں کو حرام قرار دینا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے اور اللہ کی فرمانبرداری کا اقرار کرنے کی وصیت کی ہے۔ پس یہ اس کا دین ہے جوان کے لیے مقرر کیا تھا اور کہا گیا ہے کہ وہ توحید اور شرک سے برأت ظاہرکرتا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو اس کے بعد ذکر کیا گیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ، ان اقیموا لذین ولاتتفرقوافیہ، ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کو دین اور الفت اور جماعت قائم کرنے کے لیے بھیجا ہے اور فرقہ بندی اور مخالفت کو چھوڑنے کے لیے۔ ، کبرعلی المشرکین ماتدعوھم الیہ، توحید اور بتوں کو چھوڑنے کی طرف۔ پھر فرمایا :، اللہ یجتبی الیہ من یشائ، اپنے دین کے لیے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ ، ویھدی الیہ من ینیب، اس کی فرمانبرداری کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
Top