Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 14
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا : اور نہیں اختلاف کیا اِلَّا : مگر مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے جو مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ : آگیا ان کے پاس علم بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ : سرکشی کی وجہ سے، ان کے اپنے درمیان وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةٌ : ایک بات سَبَقَتْ : جو پہلے گزرچکی مِنْ رَّبِّكَ : تیرے رب کی طرف سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي : ایک وقت مقرر تک لَّقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الَّذِيْنَ : اور بیشک وہ لوگ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ : جو وارث بنائے گئے کتاب کے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد لَفِيْ شَكٍّ : البتہ شک میں ہیں مِّنْهُ مُرِيْبٍ : اس کی طرف سے بےچین کردینے والے
اور تفرقے تو اس وقت سے ان لوگوں نے پیدا کئے جب ان کے پاس علم (صحیح) پہنچ چکا تھا (وہ بھی) آپس کی ضدا ضدی سے،17۔ اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات ایک وقت معین تک کے لئے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا،18۔ اور جن لوگوں کو کتاب (الہی) ان کے بعد دی گئی وہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے متردد ہورہے ہیں،19۔
17۔ یہاں ایک بار پھر اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ دین اصلی اور دین قدیم تو دین توحید ہی ہے۔ اور شرک مبتدع ومخترع ادیان کی ایجاد تو بہت بعد کی چیز ہے اور اس کی بنیاد بھی کسی اجتہادی غلطی پر نہیں بلکہ تمامتر نفسانیت پر ہے۔ 18۔ (عملا اور عیانا اسی دنیا میں) (آیت) ” کلمۃ سبقت من ربک “۔ وہ طے شدہ بات یہی کہ پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔ آیت مومنین کی تسکین و تسلی کے لئے کہ یہ مجرم جواب تک بچے ہوئے ہیں، یہ اپنے کسی ذاتی استحقاق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس لئے کہ اللہ نے اپنی تکوینی حکمتوں اور مصلحتوں سے انکی سزا کو دارالعمل میں نہیں بلکہ دارالجزاء کے لئے ملتوی رکھا ہے۔ 19۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے معاصر اہل کتاب۔ اھل الکتاب الذین کانوا فی عہد رسول اللہ ﷺ (کبیر) قال الاکثرون ھم الیھود والنصاری (کبیر) (آیت) ” من بعد ھم “۔ ضمیر ھم منکرین سابقین اہل کتاب کی جانب ہے۔ اے من بعد انبیاء ھم وقیل من بعد الامم الخالیۃ (معالم) لفی شک منہ مریب “۔ یعنی اپنے ہی دین اور اپنی ہی کتابوں کی حقیقت کی طرف سے شک وشبہ، تردد و تذبذب میں مبتلا ہیں اور ان پر اس طرح ایمان نہیں رکھتے جو ایمان کا حق ہے۔ ضمیرہ کتاب کی طرف ہے۔
Top