Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ : اللہ ہی کے لیے ہے مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَخْلُقُ : وہ پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے يَهَبُ : عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے اِنَاثًا : لڑکیاں وَّيَهَبُ : اور عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے الذُّكُوْرَ : لڑکے
پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتا ہے) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے
48، فان اعرضوا، لبیک کہنے سے۔ ، فماارسلناک علیھم حفیظا ان علیک نہیں ہے آپ پر، الا البلاغ وانا اذا قنا الانسان منارحمۃ ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی غنا اور صحت ، فرح بھاوان تصبھم سیئۃ، قحط، بما قلمت ایدیھم فان الانسان کفور، یعنی اللہ تعالیٰ کی گزشتہ تمام نعمتوں کا سختی سے انکار کرتا اور بھول جاتا ہے۔
Top