Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ : اللہ ہی کے لیے ہے مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَخْلُقُ : وہ پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے يَهَبُ : عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے اِنَاثًا : لڑکیاں وَّيَهَبُ : اور عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے الذُّكُوْرَ : لڑکے
اللہ کا راج ہے آسمانوں میں اور زمین میں39 پیدا کرتا ہے جو چاہے بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے
39:۔ ” للہ ملک السموات “ یہ عقلی دلیل ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ زمین و آسمان میں وہی متصرف و مختار ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اولاد دینا اور اولاد سے محروم کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے، اس معاملے، بکہ ساری کائنات کے نظام میں کوئی دخیل نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے صرف بیٹیاں عطا کرتا ہے جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہما السلام) اور جسے چاہتا ہے صرف بیٹے ہی عطا کرتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں نعمتیں عطا فرما دیتا ہے جیسا کہ خاتم النبیین ﷺ ۔ آپ کے چار صاحبزادے ابراہیم، قاسم، طیب اور طاہر تھے اور چار ہی صاحبزادیاں زینب، ام کلثوم رقیہ اور فاطمہ تھیں۔ ؓ اور جسے چاہتا ہے دونوں نعمتوں ہی سے محروم کردیتا ہے اور وہ ساری عمر اس آرزو میں جیتے ہیں اور آخر اس آرزو کو اپنے سینوں ہی میں لے کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ زعم بعضہم ان الایۃ فی الانبیاء علیہم الصلوہ والسلام حیث وھب سبحانہ شعیبا ولوطا (علیہم السلام) اناثا ولابراہیم (علیہ السلام) ذکورا ولرسولہ محمد ﷺ ذکورا واناثا وجعل عیسیٰ ویحیی (علیہما السلام) عقیمین (روح ج 25 ص 54) ۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
Top