Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Al-Qurtubi - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ
: اللہ ہی کے لیے ہے
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ
: بادشاہت آسمانوں کی
وَالْاَرْضِ
: اور زمین کی
يَخْلُقُ
: وہ پیدا کرتا ہے
مَا يَشَآءُ
: جو وہ چاہتا ہے
يَهَبُ
: عطا کرتا ہے
لِمَنْ يَّشَآءُ
: جس کے لیے چاہتا ہے
اِنَاثًا
: لڑکیاں
وَّيَهَبُ
: اور عطا کرتا ہے
لِمَنْ يَّشَآءُ
: جس کے لیے چاہتا ہے
الذُّكُوْرَ
: لڑکے
تمام بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخش دیتا ہے
(آیت نمبر
49
‘
50
) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر
1
۔ للہ ملک السموت والارض یہ مبتدا اور خبر ہیں یخلق ما یشآء یعنی مخلوقات میں سے جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے یھب لمن یشآء انا ثا ویھب لمن یشآ الذکور۔ ابو عبیدہ ‘ ابو مالک ‘ مجاہد ‘ حسن اور ضحاک نے کہا (
1
): جن کے بارے میں چاہتا ہے انہیں مونث عطا کرتا ہے ان کے ساتھ مذکر نہیں ہوتے اور جن کے بارے میں چاہتا ہے مذکر عطا فرماتا ہے ان کے ساتھ مونث نہیں ہوتے ذکور پر الف لام داخل کیا اناث پر الف لام داخل نہیں کیا کیونکہ مذکر شرف والے ہیں پس الف لام تعریف کے ساتھ مذکروں کو ممتاز کیا۔ واثلہ بن استع نے کہا : عورت کی برکت میں سے یہ ہے (
2
) کہ اس کا ذکر مردوں سے پہلے کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یھب لمن یشآء اناثا ویھب لمن یشآء الذکور عورتوں سے ذکر شروع کیا اویزوجھم ذکرانا واناثا مجاہد نے کہا : عورت پہلے بچہ اور پھر بچی جنے ‘ پھر وہ بچہ اور پھر بچی جنے (
3
) ۔ محمد بن حنفیہ نے کہا : وہ جڑواں بچے اور بچی کو جنے یا انہیں مذکر اور مونث کی حیثیت میں جمع کردے (
4
) قتبی نے کہا : یہاں تزویج سے مراد بیٹوں اوبیٹیوں کو جمع کرتا ہے (
5
) ‘ عرب کہتے ہیں : زوجت ابھی۔ جب تو بڑوں اور چھوٹوں کو جمع کرے۔ ویجعل من یشآء عقیما یعنی اس کی اولاد ہی نہیں ہوتی یوں کہا جاتا ہے : رجل عقیم ‘ امرۃ عقیم۔ عقمت المرأۃ تعقہ عقا یہ بات اسی طرح ہے جس طرح حمد یحمد ہے عقمت تعقم جس طرح عظم یعظم ہے اس کا اصل معنی کاٹنا ہے اسی سے الملک العقیم ہے یعنی ایسا ملک جس میں رشتہ داریوں کو قتل اور نافرمانی کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے کیونکہ ملک چھن جانے کا خوف ہوتا ہے ریح عقیہ یعنی ایسی ہوا جو بادلوں اور درختوں میں ملاقحہ کا فریضہ سرانجام نہیں دیتی۔ یوم قیامت یوم عقیم ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ‘ یہ کہا جاتا ہے : نساء عقم وعقہ۔ شاعر نے کہا : عقم الئساء فما فلدن شبیھہ بن الساء بمثلہ عقم عورتیں بانجھ ہوگئیں وہ اس کی مثل نہیں جنتیں عورتیں اس کی مثل لانے سے بانجھ ہیں۔ نقاش نے بیان کیا ہے : یہ آیت انبیاء کے بار میں نازل ہوئی اگرچہ اس کا حکم عام ہے (
6
) حضرت لوط (علیہ السلام) کو صرف بیٹیاں عطا کی گئیں انکے ساتھ بیٹے نہ تھے ‘ حضرت ابراہیم علیہالسلام کو بیٹے اور بیٹیاں عطا کیں ‘ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کو کوئی اولاد نہ دی ‘ اسی کی مثل حضرت ابن عباس ؓ اور اسحاق بن بشر سے مروی ہے۔ اسحاق نے کہا : یہ آیت انبیاء کے بارے میں نازل ہوئی پھر یہ حکم عام رکھتی ہے یھب لمن یشآء اناثا یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ ان کا کوئی بچہ نہ تھا ان کی صرف دو بیٹیاں تھیں یھب لمن یشآء الذکور۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی کوئی بچی نہ تھی بلکہ ان کے آٹھ بیٹے تھے اویزوجھم ذکرانا واناثا اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے آپ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ویجعل من یشآء عقیما یعنی حضرت یحییٰ بن زکر یا علہما السلام کا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ذکر نہ کیا۔ ابن عربی نے کہا : ہمارے علماء نے کہا یھب لمن یشآء اناثا کا مصداق حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں ان کی صرف بیٹیاں تھیں ان کا کوئی بیٹا نہ تھا ویھب لمن یشآء الذکور۔ کا مصداق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں ان کے بٹے تھے ان کی کوئی بیٹی نہ تھی او یزوجھم ذکرانا و اناثا اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں حضرت حواء ہر بطن سے دو بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی جنا کرتی تھیں اس بطن کے مذکر کی دوسرے بطن کی مونث سے شادی کردی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شریعت میں حرمت کے حکم کو قطعی طور پر نافذ کردیا اسی طرح حضرت محمد ﷺ کے بیٹے بھی تھے اور بیٹیاں بھی تھیں قاسم ‘ طیب ‘ طاہر ‘ اور عبد اللہ ‘ زینب ‘ ام کلثوم ‘ رقیہ اور فاطمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ یہ سب حضرت خدیجہ کے بطن سے تھے حضرت ابراہیم حضرت ماریہ قبیطیہ کے بطن سے تھے۔ اس تقدیر پر جو اس کی حکمت بالغہ اور مثیت نافذہ کے ساتھ متعلق ہے نظام چل رہا یہ تاکہ نسل باقی رہے مخلوقات بڑھتی رہے وعدہ پورا ہوتا رہے امر ثابت ہوتا رہے دنیا آباد ہوتی رہے جنت اور جہنم میں سے ہر ایک اپنا حصہ لے جو اس کو بھر دے اور کچھ حصہ باقی رہے حدیث طیبہ میں ہے کہ ” جہنم نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی : قط قط۔ مجھے کافی ہے ‘ مجھے کافی ہے جہاں تک جنت کا معاملہ ہے تو اس کا کچھ حصہ باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک اور مخلوق پیدا فرمائے گا “۔ مسئلہ نمبر
2
۔ ابن عربی نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنی قدرت عامہ اور قوت شدیدہ کی وجہ سے مخلوق کو ابتدا بغیر کسی چیز کے پیدا فرماتا ہے وہ اپنی عظیم مہربانی اور حکمت بالغہ کے ساتھ ایک چیز سے دوسری چیز پیدا فرماتا ہے یہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں ہوتا کیونکہ وہ حاجات سے پاک ہے اور آفات سے سلامت ہے (
1
) ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین سے پیدا فرمایا اور حضرت حواء کو آدم سے پیدا فرمایا اور دونوں سے مخلوق کو وطی کے طور پر پیدا فرمایا :” وہ حمل ہوتا ہے وہ جنینہوتا ہے اس میں وضع حمل ہوتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچی پیدا ہوتی ہے “ صحیح میں اسی طرح ہے ” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچا اپنے چچائوں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی کے غالب ہوتا ہے تو بچہ اپنے مامووں کے مشابہ ہوتا ہے “۔ میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث کا معنی ہے (
1
) اس کے الفاظ نہیں امام مسلم نے حضرت عروہ بن زبیر کے واسطہ سے ان سے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : جب عورت کو احتلام ہو اور وہ پانی دیکھے تو کیا وہ غسل کرے گی ؟ فرمایا :” اسے چھوڑ دے مشابہت تو اسی وجہ سے ہوتی ہے جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنے مامووں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہوتا ہے تو وہ اپنے چچائوں کے مشابہ ہوتا ہے “۔ ہمارے علماء نے کہا : اس حدیث کے مقتضا کے مطابق غلبہ مشابہت کا تقاضا کرتا ہے ‘ حضرت ثوبان کی حدیث میں ہے (
2
) جسے امام مسلم نے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہودی سے فرمایا : ” مرد کا پانی سفید اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے جب دونوں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو اللہ کے حکم سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آتا ہے تو اللہ کے حکم سے بچی پیدا ہوتی ہے “۔ اس حدیث میں بھی یہی ذکر ہوا کہ غلبہ مذکر اور مونث کا تقاضا کرتا ہے۔ دونوں حدیثوں کے مطابق یہ لازم آتا ہے کہ چچائوں کے ساتھ مشابہت کے ساتھ اور مذکر ہونا اس صورت میں ہوگا جب مرد کا پانی غالب آجائے اسی طرح جب عورت کا پانی غالب آجائے تو مامووں کے ساتھ مشابہت اور مونث ہونا لازم آئیگا کیونکہ دونوں چیزیں ایک علت کا معلول ہیں معالمہ اسی طرح نہیں بلکہ اس کے خلاف بھی صورت موجود ہوتی ہے کیونکہ ہم یہ پاتے ہیں کہ مشابہت مامووں کے ساتھ ہوتی ہے اور بچہ ہوتا ہے اور چچائوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے بج کہ بچی ہوتی ہے پس دونوں حدیثوں میں سے ایک کی تاویل متعین ہوگئی حدیث ثوبان کا جو معنی متعین ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غلبہ ہو تو یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے سابقنی فلان فسبقتہ فلاں نے میرے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا تو میں اس پر سبقت لے گیا اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما نحن بمسبوقین۔ (الواقعۃ) یعنی ہم مغلوب نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غلبہ کا معنی ہے علا علیہ اس قول کی تائید حدیث کرتی ہے ” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جائے تو وہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جائے تو بچی پیدا ہوتی ہے “ (
3
) ۔ قاضی ابوبکر بن عرب ینے ان احادیث کی بنا پر قاعدہ بنایا ہے کہ : ان دونوں پانیوں کی چارصورتیں ہو سکتی ہیں : (
1
) مرد کا پانی پہلے نکلے۔ (
2
) عورت کا پانی پہلے نکلے۔ (
3
) مرد کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو۔ (
4
) عورت کا پانی پہلے نکلے اور زیادہ ہو۔ تقسیم اسی طرح مکمل ہوتی ہے کہ مرد کا پنی پہل نکلے پھر اس کے بعد عورت کا پانی نکلے اور عورت کا پانی زیادہ ہو یا اس کے برعکس ہو جب مرد کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو تو سبقت کی وجہ سے بچہ ہوگا اور کثرت کی وجہ سے بچہ چچائوں کے مشابہ ہوگا جب عورت کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو تو سبقت کی وجہ سے بچی ہوگی اور غلبہ کی وجہ سے مشابہت مامووں کے ساتھ ہوگی اگر مرد کا پانی پہل نکلے لیکن جب عورت کا پنی نکلا تو وہ زیادہ تھا تو سبقت کی وجہ سے بچہ مذکر ہوگا اور ماں کے پانی کے مشابہت سے بچہ مامووں کے مشابہ ہوگا ‘ اگر عورت کا پانی پہلے نکلے لیکن جب مرد کا پانی نکلا تو وہ عورت کے پانی پر غالب آگیا تو بچی ہوگی کیونکہ عورت کا پانی پہلے نکلا تھا اور مشابہت چچائوں کے ساتھ ہوئی کیونکہ مرد کا پانی غالب تھا کہا : اقسام کو اس طرح ترتیب دینے سے کلام درست ہوجاتی ہے ‘ احادیث کے درمیان تعارض ختم ہوجاتا ہے۔ تمام تر پاکیزگیاں خالق علیم کے لیے ہیں۔ مسئلہ نمبر
3
۔ ہمارے علماء نے کہا : نسل انسانی مذکر اور مونث کی حیثیت سے رواں دواں رہی یہاں تک کہ دور جاہلیت میں پہلا خنثی واقع ہوا اسے علم میراث کے ماہر اور ان کے معمر آدمی عامر بن ظرب کے سامنے پیش کیا گیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے بارے میں کیا کہے اس نے ان سے مہلت مانگی۔ جب اس پر رات تاریک ہوگئی تو وہ بےکل ہوگیا وہ پہلو بدلتا رہا اس کے پاس ایک سوچ آتی اور ایک جاتی یہاں تک کہ اس کی خادمہ نے اس کی کیفیت کو عجیب جانا ‘ پوچھا : کیا بات ہے ؟ عامر نے اسے کہا : ایک معاملہ میرے پاس پیش کیا گیا ہے جس کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ کیا کہوں اس وجہ سے جاگ رہا ہوں ؟ خادمہ نے پوچھا : کیا معاملہ ہے ؟ عامر نے اسے کہا : ایک آدمی ہے جس کا ذکر اور فرج دونوں ہیں اس کا میراث میں کیا حال ہوگا ؟ لونڈی نے اسے کہا : جہاں سے اسے پیشاب آتا ہے اسی مناسبت سے اسے وراثت دے دو ‘ عامر اسے سمجھ گیا اس نے صبح کی اور عامر نے اس کا حل پیش کردیا وہ خوشی خوشی واپس چلے گئے۔ یہی صورتحال تھی کہ اسلام آگیا حضرت علی شیر خدا ؓ کے دور میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو آپ نے اس بارے میں فیصلہ کیا۔ کلبی نے ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ سے ایک بچے کیب ارے میں پوچھا گیا جس کا ذکر اور فرج تھی تو کس اعتبار سے اسے ورثہ دیا جائے گا ؟ فرمایا :” جہاں سے اسے پیشاب آتا ہے “ روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی خدمت میں انصار کا ایک خنثی پیش کیا گیا تو فرمایا : جہاں سے اسے پہلے پیشاب آتا ہے اس اعتبار سے اسے وارث بنائو “ محمد بن حنیفہ : حضرت علی شیر خدا ؓ سے اسی طرح مروی ہے ‘ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ‘ ابن مسیب ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ مزنی نے کہا : امام شافعی سے اسی طرح مروی ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر یہ ہے : پیشاب کا کوئی اعتبار نہیں اگر دونوں سے پیشاب آئے تو امام ابو یوسف کا قول ہے اکثر پر حکم لگایا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے اس کا انکار کیا ہے ‘ فرمایا : کیا تو اس کا کیل کرے گا ؟ امام شافعی کے مقلدین نے اکثریت پر کوئی حکم نہیں لگایا۔ حضرت علی اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہمانے کہا : ان کی پسلیاں شمار کی جائیں گی (
1
) کیونکہ عورت کی پسلی مرد کی نسبت ایک زائد ہوتی ہے۔ میراث والی آیت میں علماء نے جو کچھ کہا ہے مفصل گذر چکا ہے۔ الحمد اللہ۔ مسئلہ نمبر
4
۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : ایک قوم نے خنثی کیوجود کا نکار کیا (
2
) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے مونث ‘ مذکر۔ ہم کہتے ہیں : یہ لغت سے ناواقفیت ‘ فصاحت سے کندذہنی اور قدرت کی وسعت کی پہچان سیکوتاہی کی بنا پر ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی قدر تکا تعلق ہے کیونکہ وہ وسعت والا اور علیم ہے جہاں تک قرآن کے ظاہر کا تعلق ہے وہ خنثی کیوجود کی نفی نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : للہ ملک السموت والارض یخلق ما یشآء یہ عموم مدح ہے اس میں تخصیص جائز نہیں کیونکہ قدرت اس کا تقاض کرتی ہے جہاں تک اس آیت یھب لمن یشآء اناثا ویھب لمن یشآء الذکور۔ او یزوجھم ذکرانا واناثا ویجعل من یشآء عقیما کا تعلق ہے تو یہ موجودات میں غالب کی خبر دیتا ہے نادر کے ذکر سے سکوت فرمایا کیونکہ وہ کلام اول کے عموم کے تحت داخل ہے وجود اس کی گواہی دیتا ہے اور مشاہدہ منکر کی تکذیب کرتا ہے۔ رباط میں ہمارے ساتھ ابو سعید خنثی ‘ امام شہید کے پاس پڑھتا تھا جو بلا و مغرب سے تعلق رکھتا تھا نہ اس کی داڑھی تھی اور نہ ہی پستان تھے اس کے پاس ایک لونڈی تھی تیرا رب اس کے بارے میں خوب آگاہ ہے طویل سنگت کے باوجود حیاء اس سے سوال کرنے سے مانع رہا ‘ آج میرے دل میں خواہش پیدا ہورہی ہے کاش میں اس کے حال سے آگاہ ہوجاتا۔
Top