Al-Qurtubi - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ : اللہ ہی کے لیے ہے مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَخْلُقُ : وہ پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے يَهَبُ : عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے اِنَاثًا : لڑکیاں وَّيَهَبُ : اور عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے الذُّكُوْرَ : لڑکے
تمام بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخش دیتا ہے
(آیت نمبر 4950 ) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ للہ ملک السموت والارض یہ مبتدا اور خبر ہیں یخلق ما یشآء یعنی مخلوقات میں سے جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے یھب لمن یشآء انا ثا ویھب لمن یشآ الذکور۔ ابو عبیدہ ‘ ابو مالک ‘ مجاہد ‘ حسن اور ضحاک نے کہا (1): جن کے بارے میں چاہتا ہے انہیں مونث عطا کرتا ہے ان کے ساتھ مذکر نہیں ہوتے اور جن کے بارے میں چاہتا ہے مذکر عطا فرماتا ہے ان کے ساتھ مونث نہیں ہوتے ذکور پر الف لام داخل کیا اناث پر الف لام داخل نہیں کیا کیونکہ مذکر شرف والے ہیں پس الف لام تعریف کے ساتھ مذکروں کو ممتاز کیا۔ واثلہ بن استع نے کہا : عورت کی برکت میں سے یہ ہے (2) کہ اس کا ذکر مردوں سے پہلے کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یھب لمن یشآء اناثا ویھب لمن یشآء الذکور عورتوں سے ذکر شروع کیا اویزوجھم ذکرانا واناثا مجاہد نے کہا : عورت پہلے بچہ اور پھر بچی جنے ‘ پھر وہ بچہ اور پھر بچی جنے (3) ۔ محمد بن حنفیہ نے کہا : وہ جڑواں بچے اور بچی کو جنے یا انہیں مذکر اور مونث کی حیثیت میں جمع کردے (4) قتبی نے کہا : یہاں تزویج سے مراد بیٹوں اوبیٹیوں کو جمع کرتا ہے (5) ‘ عرب کہتے ہیں : زوجت ابھی۔ جب تو بڑوں اور چھوٹوں کو جمع کرے۔ ویجعل من یشآء عقیما یعنی اس کی اولاد ہی نہیں ہوتی یوں کہا جاتا ہے : رجل عقیم ‘ امرۃ عقیم۔ عقمت المرأۃ تعقہ عقا یہ بات اسی طرح ہے جس طرح حمد یحمد ہے عقمت تعقم جس طرح عظم یعظم ہے اس کا اصل معنی کاٹنا ہے اسی سے الملک العقیم ہے یعنی ایسا ملک جس میں رشتہ داریوں کو قتل اور نافرمانی کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے کیونکہ ملک چھن جانے کا خوف ہوتا ہے ریح عقیہ یعنی ایسی ہوا جو بادلوں اور درختوں میں ملاقحہ کا فریضہ سرانجام نہیں دیتی۔ یوم قیامت یوم عقیم ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ‘ یہ کہا جاتا ہے : نساء عقم وعقہ۔ شاعر نے کہا : عقم الئساء فما فلدن شبیھہ بن الساء بمثلہ عقم عورتیں بانجھ ہوگئیں وہ اس کی مثل نہیں جنتیں عورتیں اس کی مثل لانے سے بانجھ ہیں۔ نقاش نے بیان کیا ہے : یہ آیت انبیاء کے بار میں نازل ہوئی اگرچہ اس کا حکم عام ہے (6) حضرت لوط (علیہ السلام) کو صرف بیٹیاں عطا کی گئیں انکے ساتھ بیٹے نہ تھے ‘ حضرت ابراہیم علیہالسلام کو بیٹے اور بیٹیاں عطا کیں ‘ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کو کوئی اولاد نہ دی ‘ اسی کی مثل حضرت ابن عباس ؓ اور اسحاق بن بشر سے مروی ہے۔ اسحاق نے کہا : یہ آیت انبیاء کے بارے میں نازل ہوئی پھر یہ حکم عام رکھتی ہے یھب لمن یشآء اناثا یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ ان کا کوئی بچہ نہ تھا ان کی صرف دو بیٹیاں تھیں یھب لمن یشآء الذکور۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی کوئی بچی نہ تھی بلکہ ان کے آٹھ بیٹے تھے اویزوجھم ذکرانا واناثا اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے آپ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ویجعل من یشآء عقیما یعنی حضرت یحییٰ بن زکر یا علہما السلام کا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ذکر نہ کیا۔ ابن عربی نے کہا : ہمارے علماء نے کہا یھب لمن یشآء اناثا کا مصداق حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں ان کی صرف بیٹیاں تھیں ان کا کوئی بیٹا نہ تھا ویھب لمن یشآء الذکور۔ کا مصداق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں ان کے بٹے تھے ان کی کوئی بیٹی نہ تھی او یزوجھم ذکرانا و اناثا اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں حضرت حواء ہر بطن سے دو بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی جنا کرتی تھیں اس بطن کے مذکر کی دوسرے بطن کی مونث سے شادی کردی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شریعت میں حرمت کے حکم کو قطعی طور پر نافذ کردیا اسی طرح حضرت محمد ﷺ کے بیٹے بھی تھے اور بیٹیاں بھی تھیں قاسم ‘ طیب ‘ طاہر ‘ اور عبد اللہ ‘ زینب ‘ ام کلثوم ‘ رقیہ اور فاطمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ یہ سب حضرت خدیجہ کے بطن سے تھے حضرت ابراہیم حضرت ماریہ قبیطیہ کے بطن سے تھے۔ اس تقدیر پر جو اس کی حکمت بالغہ اور مثیت نافذہ کے ساتھ متعلق ہے نظام چل رہا یہ تاکہ نسل باقی رہے مخلوقات بڑھتی رہے وعدہ پورا ہوتا رہے امر ثابت ہوتا رہے دنیا آباد ہوتی رہے جنت اور جہنم میں سے ہر ایک اپنا حصہ لے جو اس کو بھر دے اور کچھ حصہ باقی رہے حدیث طیبہ میں ہے کہ ” جہنم نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی : قط قط۔ مجھے کافی ہے ‘ مجھے کافی ہے جہاں تک جنت کا معاملہ ہے تو اس کا کچھ حصہ باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک اور مخلوق پیدا فرمائے گا “۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ابن عربی نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنی قدرت عامہ اور قوت شدیدہ کی وجہ سے مخلوق کو ابتدا بغیر کسی چیز کے پیدا فرماتا ہے وہ اپنی عظیم مہربانی اور حکمت بالغہ کے ساتھ ایک چیز سے دوسری چیز پیدا فرماتا ہے یہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں ہوتا کیونکہ وہ حاجات سے پاک ہے اور آفات سے سلامت ہے (1) ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین سے پیدا فرمایا اور حضرت حواء کو آدم سے پیدا فرمایا اور دونوں سے مخلوق کو وطی کے طور پر پیدا فرمایا :” وہ حمل ہوتا ہے وہ جنینہوتا ہے اس میں وضع حمل ہوتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچی پیدا ہوتی ہے “ صحیح میں اسی طرح ہے ” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچا اپنے چچائوں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی کے غالب ہوتا ہے تو بچہ اپنے مامووں کے مشابہ ہوتا ہے “۔ میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث کا معنی ہے (1) اس کے الفاظ نہیں امام مسلم نے حضرت عروہ بن زبیر کے واسطہ سے ان سے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : جب عورت کو احتلام ہو اور وہ پانی دیکھے تو کیا وہ غسل کرے گی ؟ فرمایا :” اسے چھوڑ دے مشابہت تو اسی وجہ سے ہوتی ہے جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنے مامووں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہوتا ہے تو وہ اپنے چچائوں کے مشابہ ہوتا ہے “۔ ہمارے علماء نے کہا : اس حدیث کے مقتضا کے مطابق غلبہ مشابہت کا تقاضا کرتا ہے ‘ حضرت ثوبان کی حدیث میں ہے (2) جسے امام مسلم نے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہودی سے فرمایا : ” مرد کا پانی سفید اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے جب دونوں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو اللہ کے حکم سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آتا ہے تو اللہ کے حکم سے بچی پیدا ہوتی ہے “۔ اس حدیث میں بھی یہی ذکر ہوا کہ غلبہ مذکر اور مونث کا تقاضا کرتا ہے۔ دونوں حدیثوں کے مطابق یہ لازم آتا ہے کہ چچائوں کے ساتھ مشابہت کے ساتھ اور مذکر ہونا اس صورت میں ہوگا جب مرد کا پانی غالب آجائے اسی طرح جب عورت کا پانی غالب آجائے تو مامووں کے ساتھ مشابہت اور مونث ہونا لازم آئیگا کیونکہ دونوں چیزیں ایک علت کا معلول ہیں معالمہ اسی طرح نہیں بلکہ اس کے خلاف بھی صورت موجود ہوتی ہے کیونکہ ہم یہ پاتے ہیں کہ مشابہت مامووں کے ساتھ ہوتی ہے اور بچہ ہوتا ہے اور چچائوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے بج کہ بچی ہوتی ہے پس دونوں حدیثوں میں سے ایک کی تاویل متعین ہوگئی حدیث ثوبان کا جو معنی متعین ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غلبہ ہو تو یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے سابقنی فلان فسبقتہ فلاں نے میرے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا تو میں اس پر سبقت لے گیا اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما نحن بمسبوقین۔ (الواقعۃ) یعنی ہم مغلوب نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غلبہ کا معنی ہے علا علیہ اس قول کی تائید حدیث کرتی ہے ” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جائے تو وہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جائے تو بچی پیدا ہوتی ہے “ (3) ۔ قاضی ابوبکر بن عرب ینے ان احادیث کی بنا پر قاعدہ بنایا ہے کہ : ان دونوں پانیوں کی چارصورتیں ہو سکتی ہیں : (1) مرد کا پانی پہلے نکلے۔ (2) عورت کا پانی پہلے نکلے۔ (3) مرد کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو۔ (4) عورت کا پانی پہلے نکلے اور زیادہ ہو۔ تقسیم اسی طرح مکمل ہوتی ہے کہ مرد کا پنی پہل نکلے پھر اس کے بعد عورت کا پانی نکلے اور عورت کا پانی زیادہ ہو یا اس کے برعکس ہو جب مرد کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو تو سبقت کی وجہ سے بچہ ہوگا اور کثرت کی وجہ سے بچہ چچائوں کے مشابہ ہوگا جب عورت کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو تو سبقت کی وجہ سے بچی ہوگی اور غلبہ کی وجہ سے مشابہت مامووں کے ساتھ ہوگی اگر مرد کا پانی پہل نکلے لیکن جب عورت کا پنی نکلا تو وہ زیادہ تھا تو سبقت کی وجہ سے بچہ مذکر ہوگا اور ماں کے پانی کے مشابہت سے بچہ مامووں کے مشابہ ہوگا ‘ اگر عورت کا پانی پہلے نکلے لیکن جب مرد کا پانی نکلا تو وہ عورت کے پانی پر غالب آگیا تو بچی ہوگی کیونکہ عورت کا پانی پہلے نکلا تھا اور مشابہت چچائوں کے ساتھ ہوئی کیونکہ مرد کا پانی غالب تھا کہا : اقسام کو اس طرح ترتیب دینے سے کلام درست ہوجاتی ہے ‘ احادیث کے درمیان تعارض ختم ہوجاتا ہے۔ تمام تر پاکیزگیاں خالق علیم کے لیے ہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ہمارے علماء نے کہا : نسل انسانی مذکر اور مونث کی حیثیت سے رواں دواں رہی یہاں تک کہ دور جاہلیت میں پہلا خنثی واقع ہوا اسے علم میراث کے ماہر اور ان کے معمر آدمی عامر بن ظرب کے سامنے پیش کیا گیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے بارے میں کیا کہے اس نے ان سے مہلت مانگی۔ جب اس پر رات تاریک ہوگئی تو وہ بےکل ہوگیا وہ پہلو بدلتا رہا اس کے پاس ایک سوچ آتی اور ایک جاتی یہاں تک کہ اس کی خادمہ نے اس کی کیفیت کو عجیب جانا ‘ پوچھا : کیا بات ہے ؟ عامر نے اسے کہا : ایک معاملہ میرے پاس پیش کیا گیا ہے جس کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ کیا کہوں اس وجہ سے جاگ رہا ہوں ؟ خادمہ نے پوچھا : کیا معاملہ ہے ؟ عامر نے اسے کہا : ایک آدمی ہے جس کا ذکر اور فرج دونوں ہیں اس کا میراث میں کیا حال ہوگا ؟ لونڈی نے اسے کہا : جہاں سے اسے پیشاب آتا ہے اسی مناسبت سے اسے وراثت دے دو ‘ عامر اسے سمجھ گیا اس نے صبح کی اور عامر نے اس کا حل پیش کردیا وہ خوشی خوشی واپس چلے گئے۔ یہی صورتحال تھی کہ اسلام آگیا حضرت علی شیر خدا ؓ کے دور میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو آپ نے اس بارے میں فیصلہ کیا۔ کلبی نے ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ سے ایک بچے کیب ارے میں پوچھا گیا جس کا ذکر اور فرج تھی تو کس اعتبار سے اسے ورثہ دیا جائے گا ؟ فرمایا :” جہاں سے اسے پیشاب آتا ہے “ روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی خدمت میں انصار کا ایک خنثی پیش کیا گیا تو فرمایا : جہاں سے اسے پہلے پیشاب آتا ہے اس اعتبار سے اسے وارث بنائو “ محمد بن حنیفہ : حضرت علی شیر خدا ؓ سے اسی طرح مروی ہے ‘ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ‘ ابن مسیب ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ مزنی نے کہا : امام شافعی سے اسی طرح مروی ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر یہ ہے : پیشاب کا کوئی اعتبار نہیں اگر دونوں سے پیشاب آئے تو امام ابو یوسف کا قول ہے اکثر پر حکم لگایا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے اس کا انکار کیا ہے ‘ فرمایا : کیا تو اس کا کیل کرے گا ؟ امام شافعی کے مقلدین نے اکثریت پر کوئی حکم نہیں لگایا۔ حضرت علی اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہمانے کہا : ان کی پسلیاں شمار کی جائیں گی (1) کیونکہ عورت کی پسلی مرد کی نسبت ایک زائد ہوتی ہے۔ میراث والی آیت میں علماء نے جو کچھ کہا ہے مفصل گذر چکا ہے۔ الحمد اللہ۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : ایک قوم نے خنثی کیوجود کا نکار کیا (2) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے مونث ‘ مذکر۔ ہم کہتے ہیں : یہ لغت سے ناواقفیت ‘ فصاحت سے کندذہنی اور قدرت کی وسعت کی پہچان سیکوتاہی کی بنا پر ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی قدر تکا تعلق ہے کیونکہ وہ وسعت والا اور علیم ہے جہاں تک قرآن کے ظاہر کا تعلق ہے وہ خنثی کیوجود کی نفی نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : للہ ملک السموت والارض یخلق ما یشآء یہ عموم مدح ہے اس میں تخصیص جائز نہیں کیونکہ قدرت اس کا تقاض کرتی ہے جہاں تک اس آیت یھب لمن یشآء اناثا ویھب لمن یشآء الذکور۔ او یزوجھم ذکرانا واناثا ویجعل من یشآء عقیما کا تعلق ہے تو یہ موجودات میں غالب کی خبر دیتا ہے نادر کے ذکر سے سکوت فرمایا کیونکہ وہ کلام اول کے عموم کے تحت داخل ہے وجود اس کی گواہی دیتا ہے اور مشاہدہ منکر کی تکذیب کرتا ہے۔ رباط میں ہمارے ساتھ ابو سعید خنثی ‘ امام شہید کے پاس پڑھتا تھا جو بلا و مغرب سے تعلق رکھتا تھا نہ اس کی داڑھی تھی اور نہ ہی پستان تھے اس کے پاس ایک لونڈی تھی تیرا رب اس کے بارے میں خوب آگاہ ہے طویل سنگت کے باوجود حیاء اس سے سوال کرنے سے مانع رہا ‘ آج میرے دل میں خواہش پیدا ہورہی ہے کاش میں اس کے حال سے آگاہ ہوجاتا۔
Top