Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ : اللہ ہی کے لیے ہے مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَخْلُقُ : وہ پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے يَهَبُ : عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے اِنَاثًا : لڑکیاں وَّيَهَبُ : اور عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے الذُّكُوْرَ : لڑکے
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے
للہ ملک السموت ولارض ط یخلق مایشآء یھب لمن یشآء انثا ویھبلمن یشآء الذکورہ اویزروجھم ذکرانا وانثا ج ویجعل من یشآء عقیماً ط انہ علیم قدیر (50-49) تنک ظرفی کا باعث صحیح عقیدے سے محرومی ہے یہ اس عقیدے کا بیان ہے جس سے محروم ہونے کے باعث ان لوگوں کے اندر یہ تنک ظرفی اور ناشکری پیدا ہوئی ہے۔ اگر یہ لوگ اس حقیقت پر ایمان رکھتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو جو کچھ چاہتا ہے بخشتا ہے تو اس حالت میں مبتلا نہ ہوتے بلکہ نعمت پر اپنے رب کے شکر گزار ہوتے اور کوئی مصیبت پیش آتی تو اس پر صبر کرتے۔ یخلق مایشآء کے بعد یھب المن یشآء انثا …الآیۃ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے کہ یہ خدا ہی ہے جو جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹے اور بٹیاں دونوں ہی دیتا ہے اور جن کو چاہتا ہے بےاولاد ہی رکھتا ہے۔ وہی علم اور قدرت رکھنے الا ہے اور جو کچھ کرتا ہے اپنے علم وقدرت کے مطابق کرتا ہے، کسی دوسرے کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس وجہ سے بندوں کا فرض یہ ہے کہ تمام معاملات میں خدا ہی پر بھروسہ رکھیں۔ نہ کبھی مغرور ہوں، نہ کبھی مایوس اور نہ کبھی اس کے سوا کسی اور سے لو لگائیں۔
Top