Dure-Mansoor - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ : اللہ ہی کے لیے ہے مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَخْلُقُ : وہ پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے يَهَبُ : عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے اِنَاثًا : لڑکیاں وَّيَهَبُ : اور عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے الذُّكُوْرَ : لڑکے
اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں کا اور زمین کا ملک وہ پیدا فرماتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جسے چاہے بیٹے دیتا ہے
کسی کے لیے اولاد ہونا نہ ہونا اللہ کے اختیار میں ہے : 1:۔ ابن ابی حاتم وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری اولاد اللہ کا ہبہ ہیں (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے) اور اولاد اور ان کے مال تمہارے لئے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہوجاؤ۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کی برکت میں سے ہے جو پہلی مرتبہ بچی جنے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (یعنی اس میں پہلے بیٹی کا ذکر فرمایا) 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ سے مراد ہے کہ بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں نہ ہوں۔ (آیت) ” اویزوجھم ذکرانا واناثا “ سے مراد ہے کہ اس کی بیٹی اور بیٹا پیدا ہوئے (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ یعنی ان کی کوئی اولاد نہ ہوتی۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثا “ یعنی وہ آدمی جس کے صرف بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔ (آیت ) ” ویھب لمن یشآء الذکور “ یعنی وہ آدمی جس کے صرف بیٹے پیدا ہوتے ہیں (آیت ) ” اویزوجھم ذکرانا واناثا “ یعنی وہ آدمی جس کے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ وہ آدمی جس کی کوئی اولاد نہیں ہوتی۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) محمد بن الحنفیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویزوجھم ذکرانا واناثا “ سے مراد ہے جوڑے (یعنی اس کے ہاں جڑواں اولاد پیدا ہوتی ہے) 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ یعنی جس کے کوئی اولاد پیدا نہ ہو۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویجعل من یشآء عقیما “ یعنی جس عورت کو حمل نہیں ہوتا۔ 8:۔ عبدالرزاق (رح) نے المنصف میں عبداللہ بن حرث بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے اپنی ایک حبشی لونڈی سے خواہش پوری کی، اس سے عزل کیا، پھر اس کو بیچ دیا وہ اپنے آقا کے ساتھ چلی گئی یہاں تک کہ جب (آقا نے) راستے میں اس سے جماع کرنے کا ارادہ کیا۔ تو ہو اس سے رک گئی (اور قریب نہیں آئی) اچانک وہاں ایک بکریاں چرانے والا تھا۔ اس نے اس چرواہے کو بلایا اور اس نے عجمی زبان میں بات کی اور اس کو بتایا کہ وہ اس لونڈی کا آقا ہے۔ اس لونڈی نے کہا میں اپنے پہلے آقا سے حاملہ ہوئی جو اس سے پہلے (میرا) آقا تھا اور میرے دین میں یہ حکم ہے کہ ایک آدمی سے حاملہ ہونے کی صورت میں دوسرا آدمی مجھ سے وطی نہ کرے اس کے آقا نے ابوبکر ؓ یا عمر کی طرف خط لکھا اور ان کو کی خبر دی یہ بات نبی کریم ﷺ کو مکہ میں پہنچی۔ نبی کریم ﷺ نے جواب نہ دیا یہاں تک کہ جب کل کا دن ہوا اور ان کی مجلس مقام حجر میں تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میری مجلس میں جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور اللہ کی طرف سے (یہ پیغام لائے) کہ تم میں سے کسی کو اللہ پر اختیار نہیں ہے۔ جب انتہائی پاگل اپنے پاگل پن کا اظہار کرے لیکن (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ اپنے بیٹے کا اعتراف کرو تو آپ نے اس بارے میں ان کو لکھ دیا۔ 9:۔ عبدالرزاق (رح) نے غیلان سے اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے ایک آدمی سے عجمی لونڈی خریدی وہ آدمی اس سے جماع کرچکا تھا۔ اور وہ عورت اس سے حاملہ تھی ابوبکر (رح) نے اس سے جماع کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس لونڈی نے انکار کردیا وہ حاملہ ہے، یہ بات نبی کریم ﷺ کو بتائی گئی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس نے حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ اسے محفوظ کردیا جب تم میں سے کوئی اس قسم کے پاگل پن کا مظاہر کرے تو اسے اللہ تعالیٰ پر کوئی اختیار نہیں تو ابوبکر ؓ نے وہ لونڈی اس مالک کو واپس کردی جس سے خریدی تھی۔ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے اقسام : 10:۔ بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں یونس بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ میں نے زہری (رح) سے سنا ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا “ (کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے سے) لیکن وہ کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پردہ کے پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا تھا اور وحی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء میں سے کسی نبی کی طرف وحی فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ وہ حکم نبی کے دل میں ثبت کردیتے ہیں (پھر) اس کے ذریعہ نبی بات کرتا ہے اور اسے یاد کرلیتا ہے۔ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے اور اس میں سے ایک ایسی وحی بھی ہوتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے درمیان اور اس میں سے یوں بھی ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اس کے متعلق بات تو کرتے ہیں اور کسی کے لئے لکھتے نہیں اور اس کے لکھنے کا حکم بھی فرماتے لیکن وہ لوگوں سے اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور ان کو بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم بھی نہیں فرماتے لیکن وہ لوگوں سے اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور ان کو بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کو بیان کریں اور ان کو پیغام پہنچائیں اور وحی کی ایک قسم وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے منتخب فرشتوں کی طرف بھیجتا ہے۔ اور وہ فرشتے انبیاء کرام سے کلام کرتے ہیں اور وحی میں سے یہ بھی ہے جس کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے جس کی طرف بھیجتا ہے تو وہ رسولوں کے دلوں میں وحی کے ذریعہ انکار کردیتے ہیں۔ 11:۔ بخاری (رح) ومسلم اور بیہقی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کس طرح آپ کے پاس وحی آتی ہے ارشاد فرمایا کبھی تو اس طرح آتی ہے جیسے گھنٹی کی آواز یہ وحی میرے لئے بڑی سخت ہوتی ہے جب وہ وحی مجھ سے ختم ہوتی ہے تو میں فرشتے کے کہے ہوئے کلمات یاد کرچکا ہوتا ہوں۔ اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور بات کرتا ہے کہ تو جو کچھ کہتا ہے مجھے یاد ہوجاتا ہے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ پر شدید سردی میں وحی نازل ہوتی تو جب وحی کا سلسلہ ختم ہوتا تو آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ 12:۔ ابویعلی وعقیلی و طبرانی (رح) نے (الاسماء والصفات میں اور اس کو ضعیف کہا) سہل بن سعد اور عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سامنے ستر ہزار پردے ہیں اور نور اور ظلمت کے کوئی بھی جاندار ان پردوں کی حرکت کو سنتا ہے تو اپنے آپ کو ہلاک کرلیتا ہے۔ (یعنی مرجاتا ہے )
Top