Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 49
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ
لِلّٰهِ : اللہ ہی کے لیے ہے مُلْكُ السَّمٰوٰتِ : بادشاہت آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَخْلُقُ : وہ پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے يَهَبُ : عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے اِنَاثًا : لڑکیاں وَّيَهَبُ : اور عطا کرتا ہے لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے الذُّكُوْرَ : لڑکے
اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہت آسمانوں کی اور زمین کی وہ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے عطاء کرتا ہے
99 بادشاہی اللہ ہی کی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی کیلئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی "۔ پس انسان کو ہمیشہ اسی سے مانگنا چاہیئے۔ اور جو بھی کچھ ملے اس پر مفتون و مغرور نہ ہو۔ اور اسے اپنی عقل و فکر اور کوشش و قابلیت کا نتیجہ قرار دینے کی بجائے اللہ پاک کا عطیہ و احسان سمجھ کر اس کا مزید از مزید شکر ادا کرے کہ شکر نعمت سے نعمت بڑھتی ہے۔ اور اس میں برکت آتی ہے۔ اور وہ محفوظ رہتی ہے۔ سو اس سے ایسے بہکے بھٹکے لوگوں کو ان کی اس بیماری کا علاج بتادیا کہ اگر یہ لوگ اس حقیقت پر ایمان رکھتے کہ آسمان و زمین کی اس ساری کائنات پر حکومت و بادشاہی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے۔ وہی جو چاہتا ہے پید کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے تو یہ لوگ تنگ ظرفی اور ناشکری کی ایسی حالت میں مبتلا ہونے کی بجائے ہمیشہ صبر و شکر سے کام لیتے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس بنیادی عقیدے کو بیان فرمایا گیا ہے جس سے محرومی کے باعث لوگوں کے اندر یہ تنگ ظرفی اور ناشکری پیدا ہوتی ہے اور وہ راہ حق و ہدایت سے بھٹک کر طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوتا اور جگہ جگہ ذلت و رسوائی کی دھکے کھاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے -
Top