Mufradat-ul-Quran - An-Nahl : 63
وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ
وَجَآءَهٗ : اور اس کے پاس آئی قَوْمُهٗ : اس کی قوم يُهْرَعُوْنَ : دوڑتی ہوئی اِلَيْهِ : اس کی طرف وَ : اور مِنْ قَبْلُ : اس سے قبل كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ کرتے تھے السَّيِّاٰتِ : برے کام قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم هٰٓؤُلَآءِ : یہ بَنَاتِيْ : میری بیٹیاں هُنَّ : یہ اَطْهَرُ : نہایت پاکیزہ لَكُمْ : تمہارے لیے فَاتَّقُوا : پس ڈرو اللّٰهَ : اللہ وَ : اور لَا تُخْزُوْنِ : نہ رسوا کرو مجھے فِيْ ضَيْفِيْ : میرے مہمانوں میں اَلَيْسَ : کیا نہیں مِنْكُمْ : تم سے (تم میں) رَجُلٌ : ایک آدمی رَّشِيْدٌ : نیک چلن
اور بلاشبہ یقینا ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی اور ہم نے انھیں شیطانوں کو مارنے کے آلے بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ۔۔۔۔۔۔:”الدنیا“ ‘”دنا یدنو“ میں سے ”ادنی“ کی مؤنث ہے ، سب سے قریب ، اگرچہ سات آسمانوں میں سے ہر آسمان خالق کی کاریگری کا عظیم الشان نمونہ ہے ، مگر زمین کے سب سے قریب آسمان کی زینب و حفاظت کا جو اہتمام ہم نے کیا ہے وہ تو کچھ کچھ تمہیں بھی نظر آرہا ہے ، اس کے لیے تو کسی خاص آلے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں ستاروں کے تین فائدے بیان فرمائے ہیں، پہلا فائدہ زینت ہے ، رات کو چھوٹے بڑے لا تعداد ستاروں کے ساتھ آسمان جس قدر مزین ہوتا ہے اور حسین و جمیل نظر آتا ہے اگر ستارے نہ ہوتے تو اتنا ہی بد صورت دکھائی دیتا اور بےزیب ہوتا۔ دوسرا فائدہ روشنی ہے جو ”مصابیح“ (چراغوں) کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ چراغ نہ ہوتے تو ہر رات انتہائی تاریک ہوتی۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے ان شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے جو فرشتوں کی باتیں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ، تا کہ وہ لوگوں کو غیب دانی کے دعویٰ سے گمراہ کرسکیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (6 تا 10) کی تفسیر۔ چوتھا فائدہ دوسری جگہ بیان فرمایا (وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ) (النحل : 16)”اور ستاروں کے ساتھ وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔“ یعنی ستارے بحر و بر میں راستہ اور سمت معلوم کرنے کے کام آتے ہیں۔ ان کے علاوہ ستاروں میں سعادت یا نحوست سمجھنا یا انہیں کسی اختیار کا مالک سمجھنا شرک ہے۔
Top