Maarif-ul-Quran - An-Nahl : 63
وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ
وَاللّٰهُ : اور اللہ فَضَّلَ : فضیلت دی بَعْضَكُمْ : تم میں سے بعض عَلٰي : پر بَعْضٍ : بعض فِي : میں الرِّزْقِ : رزق فَمَا : پس نہیں الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو فُضِّلُوْا : فضیلت دئیے گئے بِرَآدِّيْ : لوٹا دینے والے رِزْقِهِمْ : اپنا رزق عَلٰي : پر۔ کو مَا مَلَكَتْ : جو مالک ہوئے اَيْمَانُهُمْ : ان کے ہاتھ فَهُمْ : پس وہ فِيْهِ : اس میں سَوَآءٌ : برابر اَفَبِنِعْمَةِ : پس۔ کیا۔ نعمت سے اللّٰهِ : اللہ يَجْحَدُوْنَ : وہ انکار کرتے ہیں
خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور وہ ان کے لئے عذاب الیم ہے۔
امتوں کی طرف رسول آئے مگر لوگ شیطان کے پیچھے چلے : 63: تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ (اللہ کی قسم ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے) یعنی ہم نے آپ سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے۔ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ (شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کیا) اعمال سے مراد کفر اور تکذیب رسل ہے۔ فَھُوَ وَلِیُّھُمُ الْیَوْمَ (وہی آج انکا دوست ہے) دنیا میں انکا ساتھی اور دھوکے کے ساتھ ان کے گمراہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر کا مرجع مشرکین قریش ہیں یعنی ان کفار کیلئے جو ان سے پہلے ہوئے شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کیا وہی شیطان آج انکادوست بنا ہوا ہے۔ نمبر 3۔ مضاف محذوف ہے۔ ای فھو ولی امثالہم الیوم پس وہی ان جیسوں کا آج دوست ہے۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے) قیامت کے دن۔
Top