Madarik-ut-Tanzil - Al-Qasas : 71
فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ
فَقَالَ : تو بولے الْمَلَاُ : سردار الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) مِنْ قَوْمِهٖ : اس کی قوم کے مَا نَرٰىكَ : ہم نہیں دیکھتے تجھے اِلَّا : مگر بَشَرًا : ایک آدمی مِّثْلَنَا : ہمارے اپنے جیسا وَ : اور مَا نَرٰىكَ : ہم نہیں دیکھتے تجھے اتَّبَعَكَ : تیری پیروی کریں اِلَّا : سوائے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو هُمْ : وہ اَرَاذِلُنَا : نیچ لوگ ہم میں بَادِيَ الرَّاْيِ : سرسری نظر سے وَمَا : اور نہیں نَرٰي : ہم دیکھتے لَكُمْ : تمہارے لیے عَلَيْنَا : ہم پر مِنْ : کوئی فَضْلٍ : فضیلت بَلْ نَظُنُّكُمْ : بلکہ ہم خیال کرتے ہیں تمہیں كٰذِبِيْنَ : جھوٹے
کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لادے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں
قراءت : یعقوب نے تَرْجِعُون پڑھا ہے۔ 71: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (کہہ دیں ذرا دیکھو تو سہی) ۔ قراءت : علی نے حذف ِہمزہ سے پڑھا ہے۔ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (اگر اللہ قیامت کے دن تک مسلسل رات ہی رات بنا دے) ۔ تو اللہ تعالیٰ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآئٍ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ (کے سوا کوئی معبود ہے۔ جو تمہارے لئے روشنی لے آئے گا کیا تم نہیں سنتے) ۔ نحو : سرمَدًا یہ جعل کا مفعول ثانی ہے۔ معنی دائمًا۔ ہمیشہ ہے یہ لفظ اسرد سے ماخوذ ہے۔ اور اس کا معنی مسلسل ہے۔ عرب کہتے ہیں۔ الا شہر الحرم ثلاثۃ سرد و واحد فرد۔ یہ صیغہ مبالغہ ہے اور میم زائد ہے۔ اس کا وزن فَعْمَلْ ہے۔ من الہ الایۃ کا مطلب یہ ہے کہ مجھے بتلائو ذرا کون اس کی قدرت رکھتا ہے۔
Top