Mafhoom-ul-Quran - Al-Muminoon : 56
فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ
فَتَقَطَّعُوْٓا : پھر انہوں نے کاٹ لیا اَمْرَهُمْ : اپنا کام بَيْنَهُمْ : آپس میں زُبُرًا : ٹکڑے ٹکڑے كُلُّ حِزْبٍ : ہر گروہ بِمَا : اس پر جو لَدَيْهِمْ : ان کے پاس فَرِحُوْنَ : خوش
پس تم چھوڑ دو ان کو ان کی مدہوشی میں کہ یہ اسی میں پڑے رہیں1 ایک وقت تک
74 ہٹ دھرموں سے منہ موڑنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم چھوڑ دو انکو ان کی ۔ غفلت و مدہوشی ۔ میں ایک وقت تک "۔ یعنی ان کی موت کے وقت تک کہ اس سے پہلے ان کی آنکھیں کھلنے والی نہیں۔ سو اس وقت اصل حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائے گی اور یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیں گے اور ان کو پورا پتہ چل جائے گا کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون ؟ اور اس وقت یہ لوگ اپنے کیے کرائے کا بھگتان پوری طرح بھگت کر رہیں گے۔ پس آپ اس کی فکر میں نہ پڑیں۔ ان کو انکے اپنے آخری انجام تک چھوڑ دیجیئے۔ اور یہی طریقہ لائق ہے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے۔ کیونکہ جو حق سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے ان کو منہ لگانے اور ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں سوائے تضییع اوقات اور تکلیف نفس کے۔ کیونکہ پتھر پر جب جونک لگ سکتی ہی نہیں تو پھر اس کے لیے محنت کرنے اور مشقت میں پڑنے کا فائدہ ہی کیا ؟ پس ایسے ہٹ دھرموں کو جو کہ حق بات سننے ماننے کو تیار ہی نہ ہوتے ہوں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں۔ سو ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Top