Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 55
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ
اَيَحْسَبُوْنَ : کیا وہ گمان کرتے ہیں اَنَّمَا : کہ جو کچھ نُمِدُّهُمْ : ہم مدد کر رہے ہیں ان کی بِهٖ : اس کے ساتھ مِنْ : سے مَّالٍ : مال وَّبَنِيْنَ : اور اولاد
کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کو مال اور بیٹے دئیے جاتے ہیں
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون “ یعنی قریش ( یہ گمان کرتے ہیں) آیت ” انما نمدہم بہ “ یعنی ہم ان کو ہم دیتے رہیں گے۔ آیت ” من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات “ یعنی ہم ان کے لیے بھلائی کے کاموں میں اضافہ کردیتے ہیں بلکہ ہم بھلائی کے کاموں میں ان کو مہلت دیتے ہیں اور وہ اس کا شعور ہی نہیں رکھتے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرات، بل لا یشعرون “۔ یعنی اللہ نے خفیہ تدبیر کی قوم کے ساتھ ان کے مالوں اور ان کی اولاد میں اس وجہ سے لوگوں کا ان کے اموال اور اولادوں کے ساتھ اندازہ نہ لگاؤ۔ بلکہ ان کی قدر ومنزلت کا اندازہ لگاؤ ایمان اور نیک عمل کے ساتھ۔ 3۔ ابن جریر نے عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے روایت کی کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت ” نسارع لہم فی الخیرات “۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس کسری (بادشاہ) کے سامان کا تھیلہ لایا گیا۔ اور عمر کے سامنے رکھ دیا گیا لوگوں میں سراقہ بن مالک بھی تھے عمر ؓ نے اس کے کنگنوں کو لے کر سراقہ کی طرف پھینک دیا انہوں نے ان کو لے کر اپنے ہاتھوں میں ڈال لیا۔ تو وہ ان کے کندھوں تک جا پہنچے (یہ دیکھا) عمر نے فرمایا ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ کسری بن ہرمز کے کنگن سراقہ بن مالک ابن جعشم ؓ کے ہاتھوں میں ہیں جو ایک دیہاتی ہے بنو مدلج میں سے پھر فرمایا اے اللہ بلاشبہ میں نے جان لیا ہے کہ تیرا رسول اس بات پر حریص تھا کہ مال پہنچ جائے تو اس کو تیرے راستے میں اور تیرے بندوں پر خرچ کردے۔ پھر تو نے اسے روکے رکھا یہ محض تیرا کرم اور احسان تھا۔ اے اللہ بلا شبہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں کہ یہ عمر کے ساتھ تیری خفیہ تدبیر ہو۔ پھر دونوں آیت آیت ” ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین، نسارع لہم فی الخیرا، بل لا یشعرون “ تلاوت کی۔
Top