Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 55
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ
اَيَحْسَبُوْنَ : کیا وہ گمان کرتے ہیں اَنَّمَا : کہ جو کچھ نُمِدُّهُمْ : ہم مدد کر رہے ہیں ان کی بِهٖ : اس کے ساتھ مِنْ : سے مَّالٍ : مال وَّبَنِيْنَ : اور اولاد
کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کی مال اور اولاد میں مدد دئیے جارہے ہیں
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّ ھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ ۔ نُسَارِعُ لَھُمْ فِیْ الْخَیْرٰتِ ط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ۔ (المومنون : 55، 56) (کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کی مال اور اولاد میں مدد دئیے جارہے ہیں۔ تو ان کے لیے بھلائی میں اضافہ کررہے ہیں ؟ بلکہ ان کو اصل معاملے کا شعور نہیں ہے۔ ) ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی پیشِ نظر دونوں آیتوں میں قریش کی ایک ایسی کمزوری کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہر دور کے آسودہ حال لوگوں کی گمراہی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مال و دولت اور اولاد میں جیسے جیسے اضافے سے نوازتا ہے ان کی گمراہی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کو مال و دولت اور اولاد کی کثرت عطا کرتا ہے وہ یقینا اپنے رویے میں بہتر شخص ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے بہتر رویے کی وجہ سے اس سے خوش اور راضی ہے اور جب وہ اپنے مقابلے میں پیغمبر اور اس کے پیروکاروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ مالی دشواریوں کا شکار اور بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہیں تو ان کا یقین اور پختہ ہوجاتا ہے کہ اگر یہ لوگ جو اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں واقعی ہدایت پر ہوتے اور ہم گمراہ ہوتے تو صورتحال بالکل اس کے برعکس ہوتی ہم بھوکوں مر رہے ہوتے اور مسلمان ہر طرح کی آسودگی سے ہمکنار ہوتے۔ یہ بات یاد رہے کہ مال کے ساتھ اولاد کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ قبائلی زندگی میں اولاد کی کثرت قوت و طاقت کا سب سے بڑاذریعہ ہوتی ہے۔ جس کے پاس لڑنے والے بازو زیادہ ہیں وہ ایک طاقتورآدمی سمجھا جاتا ہے اور پھر کھیتی باڑی اور باغوں کی دیکھ بھال اور قافلہ تجارت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینا افراد کی محتاج ہوتی ہے اور جس کے بیٹوں کی تعداد قابل ذکر ہے وہ وسائلِ رزق میں بھی یقینا دوسروں سے بہتر ہوگا۔ ان آیات میں اس غلط فہمی کو رد کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ مال و دولت اور اولاد کی کثرت اللہ کے ہاں قرب کا ذریعہ اور بھلائیوں میں اضافے کا باعث نہیں یہ تو اللہ کی طرف ایک آزمائش ہے اور جو لوگ اس آزمائش میں پورا اترنے کی بجائے اسی کو اپنی کامیابی تصور کرلیتے ہیں ان کے لیے یہ قدرت کے استدراج کا ایسا پھندا ہے جس میں پھنس جانے کے بعد کبھی کوئی اس سے بچ کر نہیں نکلا۔ لیکن ان کی حماقت اور بلادت کا کیا کہنا کہ جو چیز ان کی تباہی کا باعث بن رہی ہے اسی کو اپنے لیے کامیابی اور قرب کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔
Top