Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 55
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ
اَيَحْسَبُوْنَ : کیا وہ گمان کرتے ہیں اَنَّمَا : کہ جو کچھ نُمِدُّهُمْ : ہم مدد کر رہے ہیں ان کی بِهٖ : اس کے ساتھ مِنْ : سے مَّالٍ : مال وَّبَنِيْنَ : اور اولاد
کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں کی مدد دیتے ہیں
55، 56: اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَ ( کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم ان کو جو مال واولاد دیتے جاتے ہیں) ماؔ الذیؔ کے معنی میں ہے اَنَّ کی خبر نسارع لھم فی الخیرات ہے۔ اور خبر سے اسم کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے : ای نسای عُ لھم بہٖ نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ مطلب یہ ہے کہ یہ امداد باوجود معاصی کے صرف استدراج ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ ان کو جلد ازجلد امداد مل رہی ہے اور ان کی عمدہ کا ر کردگی پر ہم ان کو ثواب کا پیشگی بدلہ دے رہے ہیں۔ استدلالِ آیت : معتزلہ کے عقیدہ کی تردید ہے کہ اصلح فی الدین اللہ پر لازم ہے اس آیت میں خبر دی کہ یہ بات ان کے لئے دینی اعتبار سے خیر نہیں اور نہ ہی اصلح۔ بلکہ اضرر ہے۔ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ (بلکہ ان کو شعور نہیں) بلؔ یہ ایحسبون سے استدراک کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حیوانات کی طرح ہیں ان میں شعور نہیں جب تک کہ اس بات پر غور نہ کریں کہ یہ استدراج ہے یا بھلائی میں مسارعت ہے۔
Top