Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 52
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ
وَكَذٰلِكَ
: اور اسی طرح
اَوْحَيْنَآ
: وحی کی ہم نے
اِلَيْكَ رُوْحًا
: آپ کی طرف ایک وحی کو
مِّنْ اَمْرِنَا
: اپنے حکم سے
مَا كُنْتَ تَدْرِيْ
: نہ تھا تو جانتا
مَا الْكِتٰبُ
: کتاب کیا ہے
وَلَا الْاِيْمَانُ
: اور نہ ایمان
وَلٰكِنْ
: لیکن
جَعَلْنٰهُ
: بنایا ہم نے اس کو
نُوْرًا
: نور
نَّهْدِيْ بِهٖ
: راہ دکھاتے ہیں ہم ساتھ اس کے
مَنْ
: جس کو
نَّشَآءُ
: ہم چاہتے ہیں
مِنْ عِبَادِنَا
: اپنے بندوں میں سے
وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْٓ
: اور بیشک آپ رہنمائی کرتے ہیں ۔ البتہ آپ ہدایت ہیں
اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ
: صراط مستقیم کی طرف
اور اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کی طرف ایک جاں فزا حقیقت ( قرآن کریم) کو اپنے حکم سے بھیجا اور آپ ﷺ نہ تو یہ جانتے تھے کہ کتاب (اللہ) کیا ہے ؟ اور نہ آپ ﷺ کو یہ خبر تھی کہ ایمان کیا ہے ؟ لیکن ہم نے اس (کتاب) کو نور بنا دیا ہے اور اس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ آپ ﷺ راہ حق کی ہدایت کر رہے ہیں
قرآن کریم نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف وحی کیا گیا ہے 52 ؎ وحی کا نام لیتے ہی ہم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم علم کے ان درجات سے بہت اعلیٰ وارفع چیز ہے جن درجات کو مادی وسائل سے انسان حاصل کرتا ہے اور یہ بھی کہ قرآن کریم وحی کے معروف تین طریقوں میں سے آخری طریقہ کے مطابق نازل ہوا ہے اور پھر اس قرآن کریم کی وحی کو مزید بلند سے بلند تر بلکہبلند ترین کرنے کے لیے اس پر ” روح “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کی تعریف صرف امر ربی ہے گویا اس کیل یے ایک ایسا لفظ استعمال کیا گیا جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کو اس کی اپنی ذات کا اس میں کسی طرح کا بھی عمل دخل نہیں ہے بلکہ خالصتاً امرربی ہے۔ کیونکہ اس جگہ روح سے مراد وحی ہے اور وحی کیا گیا ہے ؟ قرآن کریم۔ بس قرآن کریم کو روح سے تعبی کر کے ایک طرف یہ واضح کردیا کہ اس میں وحی کیے جانے والے کی ذات کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ہاں ! صاحب وحی اس قابل تھا کہ اس کی طرف وحی کی جائے اور دوسری طرف یہ ظاہر کردیا کہ قرآن کریم صاحب وحی اور ان تمام انسانوں کے لیے حقیقی زندگی کا ذریعہ ہے اور حقیقی زندگی وحی زندگی ہے جو آرام و آسائش سے بھی گزرے اور اس کے پیچھے موت کا گھوڑا بھی نہ دوڑایا گیا ہو کہ معلوم ہی نہ ہو وہ کس وقت زندگی کو ختم کر کے رکھ دے۔ اس طرح یہ خود بخود ظاہر ہوگیا کہ گزشتہ تمام الہامی کتابوں اور صحیفوں کی روح بھی قرآن کریم میں داخل کردی گئی ہے کیونکہ آخری زندگی کا انحصار صرف اور صرف اسی ایک کتاب قرآن کریم پر ہے جس کی حفات کی ذمہ داری خود خالق کائنات نے اپنے ذمہ لی ہے جو قرآن کریم کا نازل کرنے والا ہے۔ پیچھے ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ قرآن کریم وحی کے معروف تین طریقوں میں سے آخری طریقہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ وہ آخری طریقہ وحی کیا ہے ؟ اس کی وضاحت بھی پیھچے آپ پڑھ چکے ہیں کہ وحی کا آخری اور اہم طریقہ جبریل (علیہ السلام) کے ذریعہ سے بات کرنا ہے جس کے الفاظ صاحب وحی سنتا ہے اور ان کا مفہوم صاحب وحی کے دل پر نازل ہوتا جاتا ہے اور مسموع الفاظ من و عن یاد ہوتے جاتے ہیں اور یہ بات تجربہ اور مثال سے نہیں سمجھائی جاسکتی اس کا تعلق خالصتاً عقیدہ سے ہے اور ایسے کلام کو کلام رسول نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ کلام کلام اللہ ہے۔ اسی لیے علمائے اسلام نے اس کو وحی متلو سیت عبیر کیا ہے اور وحی کی دوسری دو اقسام یعنی اشارہ سے بات کا سمجھانا اور من وراء حجاب کوئی بات دل میں ڈال دینا وحی غیر متلو کہلاتا ہے۔ جن مفسرین نے قرآن کریم کی وحی کو ان تینوں قسم کی وحی سے تعبیر کیا ہے ہم ان سے اتفاق نہیں رکھتے کیونکہ قرآن کریم نے اپنے نازل ہونے کی صورت کو ان دونوں اقسام سے خود الگ کر کے بیان کردیا ہے اور نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ { وانہ لتنزیل رب العلمین نزل بیہ الروح الامین علی قلبک لتکون من المنذرین بلسانٍ عربی مبینٍ } (الشعراء 26: 192 تا 195) ” اور یہ ” قرآن) جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔ جبریل امین اس کو لے کر اترا ہے۔ تیرے دل پر تاکہ تو ڈرانے والوں میں سے ہو۔ کھول کر بیان کرنے وابی عربی زبان میں۔ “ یہ بات بالکل صاف ہوگئی کہ ” کلامِ الٰہی اقساط میں نازل ہوا “ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب پر قرآن کریم کے نازل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے معانی آپ ﷺ کے قلب پر نازل ہوگئے تھے۔ نہیں ، بلکہ الفاظ اترے ہیں اور یہ بھی کہ الفاظ اترنے کا معاملہ پورے قرآن کریم کے لیے ہے نہ کہ بعض حصہ کے لی۔۔ ہم پورے عزم و جزم سے یہ بات ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب اللہ ہے جس میں معنی کے ساتھ الفاظ بھی وحی کیے گئے ہیں اور وہ الفاظ من و عن محفوظ ہیں ان کا حرف حرف اور نقطہ نقطہ { و انا لہ لحافظون } کی پیشین گوئی میں داخل ہے اس لیے اس میں الفاظ کی کمی بیشی اور حذف و اضافہ محال ہے۔ پھر جس وحی میں الفاظ نازل نہیں ہوئے بلکہ اشارہ کیا گیا ہے اور مفہوم دل میں ڈال دیا گیا ہے ظاہر ہے کہ وہ الفاظ صاحب وحی کے ہیں اور صاحب وحی کے الفاظ اور مفہوم کی اتنی حفاظت نہیں کی جانی چاہئے تھی جتنی کہ کلام اللہ کی تاکہ کلام اللہ اور کلامف رسول دونوں میں تمیز باقی رہے اور بلاریب یہی کہا گیا ہے۔ کتاب اللہ یعنی قرآن کریم کی اصل حیثیت کلی قانون کی ہے اور قانون کی حفاظت اور وضاحت کے لیے نہ صرف اس کے ایک ایک لفظ کے محفوظ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس کے ایک ایک نقطہ ، شوشہ ، وقف ، وصل ، فصل ، عطف ، قطع ، تقدم ، تاخر اور آج کل کی اصطلاح کے مطابق ڈیش (Dash) اور کا مہ (Comma) کی بعینہٖ حفاظت کی ضرورت ہے ورنہ ذرا سے تغیر میں قانون کا مطلب کچھ کا کچھ ہو سکتا ہے اور وحی غیر متلو کی یہ کلی قانونی حیثیت نہیں ہے بلکہ وہ اس کلی قانون کی تشریحات ، تفصیلات اور جزئیات ہیں۔ اب ذرا غور کرنے سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ تشریح ، تفصیل اور وضاحت اصل قانون کی کسی ایک شق کے بھی خلاف نہیں ہو سکتی اور نہ ایسا ہو سکتا ہے کہ تشریح ، تفصیل اور وضاحت کا اصل قانون سے کوئی تعلق ہی نہ رہے یا یہ کہ اصل قانون کو وہ منسوخ کر کے رکھ دے۔ اگر کوئی تشریح ، تفصیل اور وضاحت اصل قانون کے یا قانون کی کسی شق کے خلاف ہو تو اس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ پھر جس تشریح ، تفصیل اور وضاحت کی نسبت رسول سے کی جائے اس میں اس احتیاط کو مزید ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اگر کوئی بات ایسی نظر آئے جس کو رسول ﷺ کی طرف نسبت دی گئی ہو اور وہ اصل قانون کی کسی ایک شق کے بھی خلاف نظر آئے تو برملا کہہ دینا چاہئے کہ یہ تشریح ، تفصیل اور وضاحت اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہے سامع کو سننے یا سمجھنے میں غلطی لگی ہے خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کہاں ہے ؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ اصل قانون یا اصل قانون کی کسی ایک شق کے خلاف اس کی تشریح ، تفصیل اور وضاحت نہیں کرسکتے تھے اور یہ محال ہے کہ رسول اس بات کو نہ سمجھے جس کو کوئی دوسرا سمجھتا ہو اور وہ بات اس قانون کیم تعلق ہو۔ ہاں ! جو بات قانون کے متعلق نہ ہو اس کی اس جگہ بحث نہیں ہے۔ خاکم بدہن کہ میں ایسی بات کہوں کہ محدثین کو اس بات کی سمجھ نہ آئی بلاشبہ ان کا مقام بہت اونچا ہے اور ان کی عقل و فکر کا بھی احترام کرتا ہوں میرا منہ چھوٹا اور بات بڑی ہے تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ جو مقام اس طریقہ تفہیم کو دینا چاہئے تھا نہ دیا گیا اور علاوہ ازیں جو کچھ کیا گیا اور جس طرح حاشیوں پر حاشیے چڑھائے گئے اور آج جن باتوں کو ” اصطلاحات المحدثین “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ان کو ازبر کیا جاتا ہے اور ان پر بحثیں اٹھائی جاتی ہیں ہم اس اصل عظیم سے بھی دور ترہوتے چلے گئے ہیں۔ آج ذہین سے ذہین استاذ حدیث اپنے ذہین سے ذہین شاگردوں کو حدیث کا درس دیتے ہوئے یہ بتاتا جائے گا کہ احادیث کی اقسام قلت و کثرت طرق کے اعتبار سے کیا کیا نام اقسام ہیں اور پھر اس کی ہر قسم کو کتنے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کے نام کیا کیا ہیں۔ الموقوف ، المقطوع اور المسنہ کی کا تعریف ہے۔ المقبول ، غیر المقبول یا المردود کسے کہتے ہیں اور کیوں کہتے ہیں۔ الصحیح لذاتہ ، الحسن لذاتہ ، الصحیح لغیرہ اور الحسن لغیرہ کیا ہے اور یہ کہ الصحیح لذاتہ کے ضمنی ابحاث اور اس کی متفرق اصطلاحات کیا ہیں اور کیوں ہیں ؟ متفق علیہ۔ افراد بخاری ، افراد مسلم ، اصح الاسانید ، المتف بالقرائن جو نام رکھے گئے ہیں یہ کیوں رکھے گئے ہیں اور ان کی کیا حیثیت ہے۔ اس طرح اس مضمون کو بیان کرتے کرتے ہم کہاں سے کہاں نکل جائیں گے اور ہم مولوی ، مولانا ، مولانا ، علامہ ، حضرت العلام ، مفتی ، مدرس اور مناظر کے ناموں سے موسوم ہو کر اور حسب المرتبہ ، جبہ قبہ پہن کر جب اپنی اپنی مسند سنبھالیں گے تو ” الف “ ایک حدیث کو بیان کرتے ہوئے مرفوع قرار دے گا تو ” ب “ اس کو منسوخ کہہ کر بات شروع کرے گا اور دونوں کے درمیان بحث ومناظرہ شروع ہوجائے گا اور ایک دوسرے کو وہ وہ مغلظات سنائی جائیں گی اور ایک دوسرے کو چت کرنے کے لیے وہ وہ حربے اختیار کیے جایں گے اور داؤپیچ لگائے جائیں گے جن کو اختیار کرنے اور لگانے سے انسان اسلام ہی سے خارج ہوجاتا ہے اور پھر بھی کوئی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوگا ہر ایک جیت کا نعرہ لگائے گا اور اگر سند کی بحث شروع ہوگئی تو ایک ایک راوی پر وہ جرح و قدح ہوگی کہ الامان و الحفیظ جن لوگوں کو وفات پائے سینکڑوں بلکہ ہزار سے بھی متجاوز سال گزر چکے ہیں ان کی کھلڑی اس طرح ادھیڑ کر رکھ دی جائے گی کہ گویا وہ اس وقت بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ” الف “ اس کو امام وقت کہے گا اور ” ب “ اس کو مفتری ، جھوٹا اور کذاب کے خطاب دے گا اور یہ علمی و ادبی لڑائی بٹیروں ، مرغوں اور ریچھوں کی لڑائی سے بھی زیادہ برے طریقے سے لڑی جائے گی اور اس کے باوجود دونوں ہی جیت جائیں گے اور ایک بھی ان میں نہیں ہارے گا۔ مدت ہوئی ہمارے ہاں یہ دنگل جاری ہے اور ماشاء اللہ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور حدیث کے صحیح اور ضعیف و کمزور کا حل نہ آج تک نکل سکا اور نہ ہی کبھی نکل سکے گا اور جو سیدھا اور آسان طریقہ تھا جو سب انسانوں کی سمجھ میں آسکتا تھا اس کو بالکل ترک کردیا گیا کہ آیا جو بحث جاری ہے اس کا اصل قانون سے کوئی تعلق بھی ہے یا نہیں ؟ اگر تعلق ہے تو کیا اصل قانون کی کسی شق کے یہ خلاف تو نہیں پھر اگر یہ بات اصل قانون کے خلاف نہیں ہے نہ کلی طور پر اور نہ جزوی طور پر اور اس کا اصل قانون سے تعلق بھی موجود ہے تو یہ بات جس نے بھی کہی ہے اور وہ کیسا بھی ہے بات صحیح و ہے اور اس کے مطابق عمل درست ہے اور اسلام میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور بلاریب یہ بات اسلام کی اور پیغمبر اسلام کی ہے اور جب آپ کی طرف اس کی نسبت بھی کی گئی ہے تو سونے پر سہاگہ ہے ہم اس سے بحث کریں گے تو آخر کیوں ؟ مرنے والوں کے ناموں اور ان کے کاموں پر ہم اس طرح لڑ رہے ہیں کہ نہ ہم کو اپنا ہوش رہا ہے اور نہ ہی اپنے ماحول کے زندوں کا کچھ پتہ ہے ، نہ خود کوئی کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اپنے ماحول کے زندوں کا کچھ پتہ ہے ، نہ خود کوئی کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اپنے ماحول کے لوگوں کو کرنے دینا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ اسلام کے نام سے بیزار ہوگئے ہیں جو سلامتی ، صلح اور آشتی کا مذہب تھا آج تفرقہ بازی اور کفر کا گہوارہ بن کر رہ گیا ہے۔ میں نے نہایت محتاط اور مختصر الفاظ میں عرض کردیا ہے حالانکہ جو کچھ عرض کیا جا رہا ہے حالات اس سے بھی بہت آگے نکل چکے ہیں۔ اللہ ہمیں قرآن کریم اور صاحب قرآن کریم کے قریب آنے کی توفیق دے اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول اور خاتم النبیین دل و جان سے قبول کرلینے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہم میں سے ہر ایک خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے اپنے اعمال کی طرف دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور قرآن کریم کا حکم کیا ہے اور رسول ﷺ کا حکم قرآن کریم کے کسی ایک حکم یا حکم کی کسی ایک شق کے خلاف ہو ، ممکن ہی نہیں اس کے باوجود اگر کہیں فروغ کا اختلاف موجود ہو اور وہ نظر بھی آئے تو اس کو برداشت کرکے اپنا عمل اپنے تفہیم شدہ طریقہ کے مطابق جاری رکھا جائے یہی حسن الاخلاق ہے اور اسی کو اختیار کرنے کی اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرما دے یہی اسلام ہے جس کی تعلیم سادہ اور عام فہم ہے۔ اس جگہ جو کچھ میں نے مجمل طور پر بیان کیا ہے بلاشبہ اس میں اجمال ہے اور الفاظ بھی میرے ہیں لیکن اس کی تفصیل امام شافعی (رح) کی ” کتاب الرسالہ “ مطبوعہ مصر 1314 ھ میں بھی موجود ہے اور امام شاطبی اندلسی المتوفی 790 ھ کی اہم تصنیف ” الموافقات فی اصول الاحکام “ جلد اول مطبوعہ مصر 1314 ھ میں اور شاہ ولی اللہ (رح) کی ” حجۃ اللہ البالغہ “ میں دیکھی جاسکتی ہے یہ دونوں کتابیں پنجاب پبلک لائبریری کے عربی سیکشن میں موجود ہیں۔ زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ پر قرآن کریم کے نزول سے پہلے کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے “ جس کا صاف اور واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ آپ ﷺ کو نبوت پر سرفراز ہونے سے قبل اس بات کا قطعاً کوئی تصور نہیں تھا کہ میں رسول بنایا جاؤں گا اور میری طرف اللہ تعالیٰ کا فرشتہ کو وحی لے کر آئے گا اور میں ہی خاتم النبیین ہونے والا ہوں اگرچہ آپ ﷺ کے متعلق کتب آسمانی میں بشارات موجود تھیں لیکن آپ ﷺ کو اس بات کا علم کب تھا ؟ بلاشبہ آپ ﷺ وحی الٰہی کے آنے سے قبل ناخواندہ تھے اگرچہ جاہل نیں تھے جیسا کہ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ ناخواندگی کو جہالت سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ ہر ناخواندہ جاہل اور ہر جاہل ناخواندہ نہیں ہوتا اگر ذرا غور اور نظر عمیق سے دیکھا جائے تو خواندہ جاہلوں کی آج بھی کمی نہیں ہے اور ناخواندہ عقل و فکر والے اس وقت بھی موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں۔ بہرحال قرآن کریم کی روشنی نے آتے ہی ایک لحظہ کے اندر ناخواندگی کو ختم کر کے خواندہ بنا دیا اور اللہ تعالیٰ کے اس نور کلام نے آپ ﷺ کے سینہء اقدس کو اس طرح جگمگا دیا کہ آپ ﷺ اس مخلوق کے اندر ایک روشنی کا مینار بن گئے جس کی کرنیں دور دور تک پھیلتی چلی گئیں لیکن اس روشنی سے وہی راہ دیکھ سکا جس کے اندر سیدھی راہ کی تڑپ موجود تھی اور اس کا دل روشنی کو چاہتا تھا۔ شپرہ چشم لوگوں نے اس روشنی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں اور وہ اپنی پہلی حالت کو بھی کھو گئے اور کفر میں تیزگام ہو کر رہ گئے۔ جس طرح سارے انسان نبی و رسول نہیں ہو سکتے کیونکہ رسالت کوئی کسبی چیز نہیں ہے بلکہ ایک وہبی امر تھا جس کو اب ختم کردیا گیا اس طرح ہر انسان اس روشنی سے بھی مستفید نہیں ہو سکتا چونکہ اس سے استفادہ کے لیے اس کی تڑپ ، لگن اور خواہش کا ہونا ضروری ہے اس لیے جس شخص کے دل میں اس کی لگن ، تڑپ اور خواہش موجود ہے اسی کو یہ روشنی حاصل ہوتی ہے ، دوسرا اس سے محروم رہتا ہے۔ یہی ہوا کہ جن کے دل میں یہ بات موجود تھی انہوں نے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو دعویٰ کرتے ہی تسلیم کر ل اس اور جن کے دلوں میں آپ ﷺ کے دعویٰ پر تنقید تھی انہوں نے تنقید شروع کردی کہ ایک ہمارے ہی جیسا انسان ہے جو ہماری طرح پیدا ہوا ، ہماری طرح کھاتا پیتا ہے ، ہماری طرح اٹھتا بیٹھتا اور چلتا پھرتا ہے وہ نبی و رسول کیسے بن گیا اور پھر خصوصاً جب دنیا کی ہرچیز ہمارے پاس موجود ہے ، لوگ ہماری بات سننے کے لیے ہر وقت تیار ہیں ، ہم کو چھوڑ کر اس کو کیسے نبوت و رسالت مل گئی اور ہم کو وہ کیوں نہ مل سکی اور انہی سوالوں میں گم سم مخالفت کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ بلاشبہ آپ ﷺ ویسے بھی کتاب سے واقف نہیں تھے کہ آپ ﷺ نے کسی سے لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا تھا اور آپ ﷺ نے پہلی آسمانی کتابیں بھی نہیں پڑھی تھیں اور رواج کے پڑھنے لکھنے سے بھی آپ ﷺ شناساں نہ تھے اور ایمان کی جزئیات کا بھی آپ ﷺ کو علم نہیں تھا اور ویسے بھی کتاب اور ایمان کا تعلق نہایت گہرا ہے کیونکہ کتاب اگر جسم ہے تو ایمان اس کی روح ہے اور جسم اور روح کے الحاق سے زندگی تعبیر ہے اور دونوں کے الگ الگ ہوجانے کا نام پہلے ہی موت ہے اس لیے دونوں سے بیخبر ی کا اعلان کردیا گیا۔ نورِ ہدایت اس جگہ قرآن کریم ہی کو کہا گیا ہے جو حقیقت میں ایمان کا ایک قالب ہے۔ اس طرح جب آپ ﷺ کتاب اور ایمان سے روشناس ہوگئے اور دونوں ہی آپ ﷺ کے اندر بھر دیئے گئے جہاں آپ ﷺ ناخواندہ تھے وہاں خواندہ ہوگئے ، جہاں لکھنا نہیں جانتے تھے آپ ﷺ کو لکھنا آگیا اس طرح آپ ﷺ ایمان کی حقیقت سے اس طرح آگاہ کردیئے گئے کہ اب صرف اور صرف آپ ﷺ ہی سے یہ نور ہدایت پھیلتا نظر آتا ہے۔ اسی نور ہدایت کو نبوت سے تعبیر کیا گیا ہے جو تاقیام قیامت جاری وساری رہے گا۔ آپ ﷺ کا وجود اقدس اگرچہ موجود نہ رہا تاہم آپ ﷺ کی نبوت کی روشنی ہمیشہ جاری وساری رہے گی اور کتاب کا اپنی اصلی حالت میں قائم رہنا بھی اسی لیے لازم ٹھہرا دیا گیا تاکہ نور نبوت کبھی مانند نہ پڑے بلکہ اسی طرح تاباں رہے جس طرح آپ ﷺ کی موجودگی میں تھا ، اب بھی ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا اور جس راہ کی طرف آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے وہی راہ سیدھی راہ ہے اور وہی راہ باقی رہنے والی راہ ہے۔
Top