Fi-Zilal-al-Quran - Al-Muminoon : 83
لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ
لَقَدْ وُعِدْنَا : البتہ ہم سے وعدہ کیا گیا نَحْنُ : ہم وَاٰبَآؤُنَا : اور ہمارے باپ دادا ھٰذَا : یہ مِنْ قَبْلُ : اس سے قبل اِنْ ھٰذَآ : یہ نہیں اِلَّآ : مگر (صرف) اَسَاطِيْرُ : کہانیاں الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگ
ہم نے بھی یہ وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں ۔ یہ محض افسا نہائے پارینہ ہیں
لقد الا ولین (23 : 83) ” ہم نے یہ بھی وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پلے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں ۔ یہ محض افسانہ ہائے پارینہ ہیں ــ“۔ لیکن بعث بعد الموت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ یہ اللہ نے اپنی تدبیر اور اپنی حکمت سے مقرر کیا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ یہ گھڑی وقت سے قبل نہیں آسکتی الا یہ کہ اللہ چاہے ، اگر چہ تمام مخلوق اس کا مطالبہ کردے یا غافلین کا کائی گروہ اس نظریہ سے مذاق ہی کرتا رہے۔ مشرکین عرب کے عقائد میں بڑا ہی اضطراب تھا۔ وہ اللہ کے وجود کا انکار نہ کرتے تھے۔ وہ اس بات کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ اللہ مالک سماوات والارض ہے۔ وہ مدبر سماوات ہے اور زمین اور آسمانوں کو تھامنے والا ہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ دوسرے الہوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ اور ان کا نظریہ یہ تھا کہ دوسرے الہوں کی بندگی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ پھر وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے تھے حالانکہ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اللہ کی طرف نسبت کرتے تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے مسلمہ عقائد کا ذکر کے ان پر گرفت کرتے ہیں تاکہ ان کے عقائد کے اندر اضطراب پایا جاتا ہے ، اسے دور کردیا جائے اور انہیں اس عقیدہ توحید کی طرف لایا جائے جس کی طرف ان کے مسلمہ عقائد بھی راہنمائی کرتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنی فطرت پر قائم ہوں اور انحراف نہ کریں۔
Top