Bayan-ul-Quran - At-Tawba : 101
فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا
فَاَشَارَتْ : تو مریم نے اشارہ کیا اِلَيْهِ : اس کی طرف قَالُوْا : وہ بولے كَيْفَ نُكَلِّمُ : کیسے ہم بات کریں مَنْ كَانَ : جو ہے فِي الْمَهْدِ : گہوارہ میں صَبِيًّا : بچہ
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔
(100) یعنی جو اولین ایمان لانے والے اور مقدم ہیں اور جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، اور بدر میں شریک ہوئے ہیں اور قیامت کے فرض ادا کرنے اور گناہ سے بچنے میں جتنے لوگ ان کے پیرو ہیں، اللہ رب العزت ان سب سے راضی ہوئے اور وہ سب اللہ رب العزت سے اجروثواب کے ملنے سے راضی ہوئے اور رب العزت کی طرف سے ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے درختوں اور مکانات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گے، وہ جنت میں سدا رہیں گے، وہ موت وحیات کی کشمکش سے آزاد ہوں گے اور اللہ رب العزت کی خوشنودی اور باغات بہت بڑی کامیابی ہے۔
Top