Tafseer-e-Majidi - At-Tawba : 62
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ
وَاِذَا : اور جب تَوَلّٰى : وہ لوٹے سَعٰى : دوڑتا پھرے فِي : میں الْاَرْضِ : زمین لِيُفْسِدَ : تاکہ فساد کرے فِيْهَا : اس میں وَيُهْلِكَ : اور تباہ کرے الْحَرْثَ : کھیتی وَ : اور النَّسْلَ : نسل وَاللّٰهُ : اور اللہ لَا يُحِبُّ : ناپسند کرتا ہے الْفَسَادَ : فساد
البتہ تمہاری آزمائش ہوگی مالوں میں اور جانوں میں اور البتہ سنو گے تم اگلی کتاب والوں سے اور مشرکوں سے بدگوئی بہت اور اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو یہ ہمت کے کام ہیں1
1 یہ خطاب مسلمانوں کو ہے کہ آیندہ بھی جان و مال میں تمہاری آزمائش ہوگی اور ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑینگی قتل کیا جانا زخمی ہونا، قیدو بند کی تکلیف اٹھانا، بیمار پڑنا، اموال کا تلف ہونا اقارب کا چھوٹنا، اس طرح کی سختیاں پیش آئینگی، نیز اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے بہت جگر خراش اور دل آزار باتیں سننا پڑینگی۔ ان سب کا علاج صبر وتقویٰ ہے۔ اگر صبر و استقلال اور پرہیزگاری سے ان سختیوں کا مقابلہ کرو گے تو یہ بڑی ہمت اور اولوالعزمی کا کام ہوگا۔ جس کی تاکید حق تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ (تنبیہ) بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت بدر سے پہلے نازل ہوئی، قتال کا حکم اس کے بعد ہوا، تاہم صبر وتقویٰ کا حکم مشروعیت قتال کے باوجود بھی فی الجملہ باقی ہے جس پر اخیر تک عمل ہوتا رہا ہے۔ ہاں صبر و عفو اور تغلیظ و تشدید کے مواقع کا پہچاننا ضروری ہے۔ جو نصوص شرعیہ سے معلوم ہوسکتے ہیں۔ اس آیت کو یہاں رکھنے سے شاید یہ غرض ہے کہ تم ان کفار و منافقین کی گستاخیوں اور شرارتوں پر حد سے زیادہ طیش مت کھاؤ۔ ابھی بہت کچھ سننا پڑے گا۔ تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔ صبر و استقلال سے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہو۔ نیز دنیا کی زندگانی میں پڑ کر جو محض دھوکہ کی ٹٹی ہے، اس بات سے غافل نہ ہونا کہ خدا تعالیٰ جان اور مال دونوں میں تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔
Top