Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
سو کیا تم خیال رکھتے ہو84 کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے
ٖ 84:۔ ” افحسبتم الخ “ یہ زجر ہے دنیا میں تم اس طرح غافل رہے اور سرکشی کرتے رہے گویا تم ہمیشہ ہی دنیا میں رہو گے اور کبھی ہمارے سامنے حاضر نہیں ہوگے تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بس یونہی بغیر کسی حکمت کے پیدا کردیا ہے اور تم ہمارے احکام اور اوامرو نواہی سے بالکل آزاد ہو۔
Top