Jawahir-ul-Quran - Maryam : 14
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ
وَنُرِيْدُ : اور ہم چاہتے تھے اَنْ : کہ نَّمُنَّ : ہم احسان کریں عَلَي الَّذِيْنَ : ان لوگوں پر جو اسْتُضْعِفُوْا : کمزور کر دئیے گئے تھے فِي الْاَرْضِ : زمین (ملک) میں وَنَجْعَلَهُمْ : اور ہم بنائیں انہیں اَئِمَّةً : پیشوا (جمع) وَّنَجْعَلَهُمُ : اور ہم بنائیں انہیں الْوٰرِثِيْنَ : وارث (جمع)
اور ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں6 ان لوگوں پر جو کمزور ہوئے پڑے تھے ملک میں اور کردیں ان کو سردار اور کردیں ان کو قائم مقام
6:۔ اب مشیت ایزدی کو منظور ہوا کہ ان مظلوم و مقہور لوگوں پر نظر کرم ہو، انہیں دین و دنیا کے مقتدا بنایا جائے، انہیں فرعون کی حکومت و سلطنت کا وارث بنایا جائے اور ملک مصر پر انہیں حکومت دی جائے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لاؤ لشکر کو ان کا وہ انجام دکھایا جائے جس کا انہیں خطرہ تھا۔ ائمۃ مقتدی بھم فی الدین والدنیا علی ما فی البحر (روح ج 20 ص 44) ای قادۃ فی الخیر یقتدی بہم وقیل ولاۃ ملوکا (خازن ج 5 ص 134) ۔ ما کانوا یحذرون۔ جس چیز کا ان کو ڈر اور خطرہ تھا یعنی بنی اسرائیل کے ایک مولود کے ہاتھوں ان کی تباہی اور سلطنت سے محرومی۔
Top