Tafseer-e-Majidi - Al-Qasas : 5
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ
وَنُرِيْدُ : اور ہم چاہتے تھے اَنْ : کہ نَّمُنَّ : ہم احسان کریں عَلَي الَّذِيْنَ : ان لوگوں پر جو اسْتُضْعِفُوْا : کمزور کر دئیے گئے تھے فِي الْاَرْضِ : زمین (ملک) میں وَنَجْعَلَهُمْ : اور ہم بنائیں انہیں اَئِمَّةً : پیشوا (جمع) وَّنَجْعَلَهُمُ : اور ہم بنائیں انہیں الْوٰرِثِيْنَ : وارث (جمع)
اور ہم کو یہ منظور ہوا کہ جن لوگوں کا زور ملک میں گھٹایا جارہا ہے ہم ان پر احسان کریں اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (زمین کا) ملک بنائیں،3۔
3۔ یعنی ہماری مشیت میں یہ تھا کہ ہم انہیں دنیوی ودینی عروج دے کر رہیں۔ (آیت) ” نجعلھم ائمۃ “۔ اس ارادۂ الہی کا ظہور دینی پیشوائی میں یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر صحفیہ آسمانی نازل ہوا۔ شریعت الہی اسی قوم پر اتری۔ انبیاء اس میں برابر پیدا ہوتے رہے۔ (آیت) ” نجعلھم الورثین “۔ اس مشیت کا ظہور یوں ہوا کہ فرعون کی غلامی سے آزادی نصیب ہوئی اور آگے چل کر شام و فلسطین کی حکومت بھی مل گئی۔ (آیت) ” نمن ..... الارض “۔ بعض عارفوں نے اس سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ کمزور ومظلوم ہونا خود موجب التفات ونصرت الہی ہے۔
Top