Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 11
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
فَاطِرُ : پیدا کرنے والا ہے السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کا وَالْاَرْضِ : اور زمین کا جَعَلَ لَكُمْ : اس نے بنائے تمہارے لیے مِّنْ : سے اَنْفُسِكُمْ : تمہارے نفسوں میں (سے) اَزْوَاجًا : جوڑے وَّمِنَ الْاَنْعَامِ : اور مویشی جانوروں میں سے اَزْوَاجًا : جوڑے يَذْرَؤُكُمْ : پھیلاتا جارہا ہے تم کو فِيْهِ : اس میں لَيْسَ : نہیں ہے كَمِثْلِهٖ : اس کی مانند۔ اس کی مثال شَيْءٌ : کوئی چیز وَهُوَ السَّمِيْعُ : اور وہ سننے والا ہے الْبَصِيْرُ : دیکھنے والا ہے
بنا نکالنے والا آسمانوں کا10 اور زمین کا بنا دیے تمہارے واسطے تمہی میں سے جوڑے اور چوپایوں میں سے جوڑے بکھیرتا ہے تم کو اسی طرح نہیں ہے اس کی طرح کا سا کوئی اور وہی ہے سننے والا دیکھنے والا
10:۔ ” فاطر السموات والارض “ یہ ” لہ ما فی السموات وما فی الارض “ ہی سے متعلق ہے گویا مضإون کے اعتبار سے یہ سب ” یوحی “ کا مفعول بہ ہے۔ یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرح وحی بھیجی گئی کہ کارساز اور عالم الغیب ہونے میں اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فطرۃ زمین و آسمان میں وہی تعلق رکھا ہے جو مادہ اور نر میں ہوتا ہے جس طرح اس نے زمین و آسمان کو پیدا کی اور ان دونوں کے خواص کے ملاپ سے یہ ساری نعمتیں اور برکتیں رونما ہوئیں، اسی طرح اس نے انسانوں کی جنس ہی سے ان کی بیویاں پیدا کیں جیسا کہ س سورة نساء (رکوع 1) میں ہے ” الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجھا “ ای من جنسہا۔ اور سورة نحل (رکوع 10) میں فرمایا۔ ” واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا۔ الایۃ “ ای من جنس انفسکم (جعل لکم من انفسکم) خلق لکم من جنسکم (مدارک ج 4 ص 77) ۔ اور اس نے چوپایوں کے بھی جوڑے (نر و مادہ) پیدا کیے۔ ” یذرؤکم فیہ “ ضمیر غائب، الجعل، کی طرف راجع ہے جو ” جعل “ سے مفہوم ہے فکانہ قال یخلقکم ویکثرکم فی الجعل۔ (قرطبی ج 16 ص 8) ۔ یعنی جوڑوں کی صورت میں وہ تمہیں نسلا بعد نسل پھیلا رہا ہے۔ ” لیس کمثلہ شیء “ وہ اپنی ذات وصفات میں تخلیق کائنات میں اور تدبیر عالم میں یگانہ، بےمثل اور بےنظیر ہے، کوئی بھی اس سے مشابہ اور اس کے مانند نہیں، کیونکہ وہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ والذی یعتقد فی ھذا الباب ان اللہ جل اسمہ فی عظمتہ وکبریائہ وملکوتہ وحسنی اسمائہ وعلی صفاتہ لایشبہ شیئا من مخلوقاتہ ولا یشبہ بہ (قرطبی ج 16 ص 8) ۔
Top