Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 11
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
فَاطِرُ : پیدا کرنے والا ہے السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کا وَالْاَرْضِ : اور زمین کا جَعَلَ لَكُمْ : اس نے بنائے تمہارے لیے مِّنْ : سے اَنْفُسِكُمْ : تمہارے نفسوں میں (سے) اَزْوَاجًا : جوڑے وَّمِنَ الْاَنْعَامِ : اور مویشی جانوروں میں سے اَزْوَاجًا : جوڑے يَذْرَؤُكُمْ : پھیلاتا جارہا ہے تم کو فِيْهِ : اس میں لَيْسَ : نہیں ہے كَمِثْلِهٖ : اس کی مانند۔ اس کی مثال شَيْءٌ : کوئی چیز وَهُوَ السَّمِيْعُ : اور وہ سننے والا ہے الْبَصِيْرُ : دیکھنے والا ہے
) وہی) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا (اسی نے) تمہارے لئے تمہارے جنس کے جوڑے بنائے اور مویشیوں کے جوڑے بنائے، اور اس کے ذریعہ سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے، کوئی چیز اس کے مثل نہیں اور وہی (ہر بات کا) سننے والا ہے (ہرچیز کا) دیکھنے والا ہے،13۔
13۔ (اور وہ خود ہی ہر طرح ناقص و محدود تسلیم کرتے ہیں) (آیت) ” فیہ “۔ فی یہاں ب۔ کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” لیس کمثلہ شیء “۔ یہ اصل اصول ہے صفات تنزیہ کی۔ کوئی شے بھی پیش کی جائے اللہ کی ہم جنس، ہم نوع، ہمسر، ہم صف، غرض کسی طرح بھی ” مثل “ نہیں ہوسکتی۔ (آیت) ” کمثلہ “۔ ک۔ زائد تاکید معنی کیلئے ہے۔ الکاف الزائدۃ للتاکید (روح۔ عن الزجاج وابن جنی والا کثرین) والمعنی لیس کھو شیء علی سبیل المبالغۃ (کبیر)
Top