Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 11
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
فَاطِرُ : پیدا کرنے والا ہے السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کا وَالْاَرْضِ : اور زمین کا جَعَلَ لَكُمْ : اس نے بنائے تمہارے لیے مِّنْ : سے اَنْفُسِكُمْ : تمہارے نفسوں میں (سے) اَزْوَاجًا : جوڑے وَّمِنَ الْاَنْعَامِ : اور مویشی جانوروں میں سے اَزْوَاجًا : جوڑے يَذْرَؤُكُمْ : پھیلاتا جارہا ہے تم کو فِيْهِ : اس میں لَيْسَ : نہیں ہے كَمِثْلِهٖ : اس کی مانند۔ اس کی مثال شَيْءٌ : کوئی چیز وَهُوَ السَّمِيْعُ : اور وہ سننے والا ہے الْبَصِيْرُ : دیکھنے والا ہے
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) ۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اور وہ دیکھتا سنتا ہے
فاطر السموت والارض جعل لکم من انفسکم ازواجاومن الانعام ازواجا یذرؤکم فیہ وہ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) چارپایوں کے جوڑے بنائے (اور) اس (جوڑے لگانے کی تدبیر) سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے۔ مَنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا تمہاری جنس (یعنی جنس انس) سے تمہارے جوڑے یعنی عورتیں پیدا کیں۔ وَمِنَ الْاَنْعَامَ اَزْوَاجًا اور چوپایوں کیلئے چوپایوں کی جنس کے جوڑے پیدا کئے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے لئے چوپایوں کی مختلف اصناف پیدا کیں ‘ یا تمہارے لئے چوپایوں کے نر اور مادہ پیدا کئے۔ یَذْرَؤکُمُ- ذَرْءٌ کا معنی ہے بکھیرنا ‘ پھیلانا ‘ مراد ہے کثیر کردینا۔ فِیْہِ یعنی (جوڑا بنانے کی) اس تدبیر میں اللہ تم کو پھیلا رہا ہے ‘ نسل کثیر کر رہا ہے۔ بعض نے فیہ کا مطلب بیان کیا رحم میں یا پیٹ میں ‘ یا فِی بمعنی بَ ہے ‘ یعنی اس طریقہ سے اللہ تم کو پھیلا رہا ہے۔ بعض نے کہا : جوڑے بنا بنا کر اللہ تم کو کثیر کر رہا ہے۔ لیس کمثلہ شیء کوئی چیز اس کی مثل نہیں۔ مثل کا لفظ زائد ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ وہ کسی چیز کی طرح نہیں ہے۔ مثل کے لفظ کی زیادتی مفید تاکید ہے ‘ جس طرح ایک اور آیت میں آیا ہے : فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ بعض کے نزدیک کمثلہٖ میں کاف زائد ہے ‘ یعنی اس کی مثل کوئی شے نہیں جو اس کی ہم پلہ اور اس سے جوڑ کھانے والی ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ بعض نے کہا : مثل کا لفظ مبالغہ مقصود ہو تو کہا جاتا ہے : تجھ جیسا آدمی یہ کام نہیں کرتا ‘ یعنی تو یہ کام نہیں کرتا۔ جب مخاطب کی مثل جو مخاطب کا ہم پلہ اور برابر کو ہو ‘ یہ کام نہیں کرتا تو مخاطب کا نہ کرنا بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوجائے گا اور کنایہ کیلئے حقیقت کا وجود یا امکان ضروری نہیں ‘ جیسے کسی دراز قامت آدمی کو بطور کنایہ کہتے ہیں : فلاں طویل النجاد ہے ‘ یعنی فلاں شخص کا پرتلہ لمبا ہے یعنی وہ دراز قد ہے۔ اس کلام کی صداقت کیلئے ضروری نہیں کہ اس کا پرتلہ بھی ہو۔ اسی طرح آیت بل یداہ مبسوطتان سے بطور کنایہ سخی ہونا مراد ہے ‘ واقع میں ہاتھوں کا لمبا ہونا ضروری نہیں ‘ نہ ممکن ہے۔ بعض نے کہا : مثل کا معنی ہے صفت ‘ یعنی اس کی صفات کی طرف کسی کی صفات نہیں ہیں۔ وھو السمیع البصیر اور وہی ہے سننے والا (اور) دیکھنے والا۔ جو چیز سننے کے قابل ہے اس کو سنتا ہے اور جو چیز دیکھنے کے قابل ہے اس کو دیکھتا ہے ‘ یعنی حقیقت میں سننے اور دیکھنے ولا وہی ہے ‘ دوسرے سننے اور دیکھنے والے تو سماعت و بصارت اسی سے مانگتے ہیں۔ لیس کمثلہ شیء میں نفی مثل کی صراحت ہے ‘ اس سے یہ شبہ یا تو ہم ہوسکتا تھا کہ جب اسکی مثل نہیں تو اس کے اندر کوئی بھی صفت نہیں ہوگی ‘ اس شبہ کو آیت مذکورہ میں زائل کردیا۔
Top