Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 11
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
فَاطِرُ : پیدا کرنے والا ہے السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کا وَالْاَرْضِ : اور زمین کا جَعَلَ لَكُمْ : اس نے بنائے تمہارے لیے مِّنْ : سے اَنْفُسِكُمْ : تمہارے نفسوں میں (سے) اَزْوَاجًا : جوڑے وَّمِنَ الْاَنْعَامِ : اور مویشی جانوروں میں سے اَزْوَاجًا : جوڑے يَذْرَؤُكُمْ : پھیلاتا جارہا ہے تم کو فِيْهِ : اس میں لَيْسَ : نہیں ہے كَمِثْلِهٖ : اس کی مانند۔ اس کی مثال شَيْءٌ : کوئی چیز وَهُوَ السَّمِيْعُ : اور وہ سننے والا ہے الْبَصِيْرُ : دیکھنے والا ہے
(وہ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لیے تمہارے نفسوں سے جوڑے بنائے اور جانوروں سے بھی جوڑے۔ وہ تمہیں اس (جہاں) میں پھیلاتا ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
(1) فاطر السموت والارض …: یہ اللہ ہی کو رب ماننے، اسی پر توکل اور اسی کی طرف رجوع کی مزید دلیلیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہی کسی نمونے اور مادے کے بغیر آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ جب کہ تمہارے بنائے ہوئے معبودوں نے نہ ایک ذرہ پیدا کیا نہ کرسکتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورة حج (73)۔ (2) جعل لکم من انفسکم ازواجاً …: آسمان و زمین کو پیدا کرنے کے بعد اس نے تمہارے لئے خود تمہی میں سے تمہارے جوڑے بنائے، تاکہ تمہاری نسل جاری ہو اور مسلسل چلتی رہے۔ اپنی جنس سے جوڑے بنانے سے جو باہمی انس حاصل ہوتا ہے وہ کسی اور جنس سے جوڑا بنانے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ ابن عاشور نے فرمایا کہ عربوں میں جننیوں وغیرہ سے نکاح کی جتنی داستانیں مشہور ہیں سب جھوٹی اور خود ساختہ ہیں، کچھ لوگوں کے تخیل نے انھیں ایسا دکھایا، ورنہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں اور تمہاری ضروریات کے لئے جو پاؤں کے جوڑے بنئاے، تاکہ وہ بڑھتے پھیلتے رہیں اور تم ان سے اپنی ضروریات پوری کرتے رہو۔ (3) یذروکم فیہ : یعنی جوڑے اس لئے بنائے تاکہ توالدو تناسل کا سلسلہ قائم رہے اور تمہاری نسل پھلتی پھولتی اور پھیلتی رہے۔ (4) لیس کمثلہ شیء : انسانوں کے درمیان اگرچہ رنگوں اور زبانوں کا اختلاف پایا جاتا ہے اور ہر انسان دوسرے سے الگ تشخص رکھتا ہے، اس کے باوجود وہ بہت سی چیزوں میں ایک دوسرے کے مشابہ اور ایک دوسرے کے مثل ہیں۔ چو پاؤں اور دوسرے حیوانات کا بھی یہی حال ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کا امتیاز ہے کہ کوئی چیز اس کی ذات یا صفات کی مثل کسی طرح بھی نہیں۔ (5) لیس کمثلہ شیء ، اپنے سلسلہ ازدواج اور سلسلہ توالدو تناسل کو دیکھ کر یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ اللہ تعالیٰ بھی تمہاری طرح ہے۔ نہیں، خلاق و مخلوق ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں، نہ ذات میں، نہ صفات میں اور نہ افعال و حقوق میں۔ اس کا کوئی جوڑا نہیں اور نہ کسی کی اولاد ہے، نہ کوئی اس کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا شریک و ہمسر ہے۔ مزید دیکھیے سورة اخلاص۔ (6) لیس کمثلہ شیء“ پر ایک مشہور سوال ہے کہ جب کہنا یہ مقصود ہے کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں تو ”لیس مثلہ شیئ“ کافی تھا،”کاف“ لانے کی کیا ضرورت تھی ؟”کاف“ لانے سے تو بظاہر ایسا معنی پیدا ہو رہا ہے جو محال ہے، کیونکہ ’ لیس کمثلہ شیء“ کا ترجمہ ہوگا ”اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں“ جب کہ اس ترجمے سے دو محال باتیں لازم آتی ہیں، پہلی یہ کہ اللہ کی مثل کوئی ہے جب کہ یہ محال ہے۔ دوسری یہ کہ اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں، حالانکہ جب وہ اللہ کی مثل ہے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ اس جیسا ہے ، تبھی وہ اس کی مثل ہے۔ اس سوال کا حل اہل علم نے مختلف طریقوں سے کیا ہے، ایک یہ ہے کہ اس میں ”کاف“ زائد ہے۔ زائد کا یہ مقصد نہیں کہ بےفائدہ ہے، بلکہ وہ ”مثل“ کی تاکید اور اس میں مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ گویا یہ بات کہ ”اللہ تعالیٰ جیسی کوئی چیز نہیں“ دو دفعہ کہی گئی ہے، ایک ”کاف“ کے ساتھ اور ایک ”مثل“ کے ساتھ، مگر مثلیث کے معنی میں یہ مبالغہ محل نظر ہے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ عرب کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے ”مثل“ کا لفظ کسی جیسے کے لئے نہیں بلکہ اس کی ذات اور شخصیت کے لئے استعمال کرتے ہیں، مثلاً ”مثلی لایکذب“ سے مراد یہ نہیں کہ میرے جیسا شخص جھوٹ نہیں بولتا، بلکہ یہ ہے کہ ”میں جھوٹ نہیں بولتا۔“ اسی طرح ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی یہ نہیں کہ اس جیسے شخص کی پروا نہیں کی جاتی، بلکہ مراد یہ ہے کہ ”اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔“ اسی طرح ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہاں ”کاف“ کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر ”کاف“ نہ لایا جاتا تو عربی محاورہ ذہن میں آنے سے خیال ایک غلط مفہوم کی طرف جاسکتا تھا، جیسے ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی ہے کہ فلاں شخص کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ”کاف“ کے بغیر ”لس مثلہ شیء“ کا معنی یہ ہوسکتا تھا کہ (معاذ اللہ) اس کی ذات کوئی شے نہیں، یا اس کی کچھ حیثیت نہیں۔ اب ”لیس کمثلہ شیء“ کہنے سے یہ اندیشہ دور ہوگیا اور بات صاف ہوگئی کہ اس کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔ طبری ، بقاعی، ابن ہشام اور بہت سے ائمہ نے یہاں ”مثل“ کو شخص، ذات یا نفسک ا ہم معنی قرار دے کر اس کے شواہد پیش فرمائے ہیں۔ یہ حل معنوی طور پر بہت مضبوط ہے۔ تیسرا حل یہ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ”مثل“ کا لفظ صفت شان کے معنی میں آیا ہے، جیسے یہ آیت :(مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من مآء غیر اسن) (محمد : 15)”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔“ اسی طرح یہ آیت :(ولہ المثل الاعلیٰ فی السموت والارض) (الروم : 28) ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی صفت (شان) اسی کی ہے۔“ الاعلیٰ فی السموات والارض) (الروم : 28) ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی صفت (شان) اسی کی ہے۔“ اس لئے ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ ہے کہ ”اللہ کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہ حل سمجھنے میں سب سے آسان ہے، معنوی طور پر بالکل درست ہے اور ائمہ تفسیر سے منقول ہے۔ سیاق کے لحاظ سے بھی بہت مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات بیان فرمائی گئی ہیں، پھر فرمایا کہ اس کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔ (7) وھو السمیع البصیر :”السمیع البصیر“ ”ھو“ مبتدا کی خبر ہے۔ خبر پر الف لام لانے سے قصر کا مفہوم پیدا ہوگیا ، اسلئے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یہ ”لیس کمثلہ شیء“ (اس کی ذات وصفات جیسی کوئی چیز نہیں) سے پیدا ہونے والے ایک سوال کا جواب ہے کہ ”لیس کمثلہ شیء“ کے باوجود یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع وبصیر ہے اور انسان بھی سمیع وبصیر ہے، جیسا کہ فرمایا : (فجعلنہ سمیعاً بصیراً) (الدھر : 2) ”سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔“ بلکہ سمع و بصر انسان کے علاوہ جانوروں میں بھی موجود ہیں اور حنا نہ کے واقعہ سے معلوم ہتا ہے کہ جمادات بھی سمع و بصر سے بےبہرہ نہیں ہیں، تو اللہ تعالیٰ بےمثل کیسے ہوا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کامل اور اصل سمیع وبصیر صرف اللہ تعالیٰ ہے، کسی اور میں پائی جانے والی یہ صفات اللہ تعالیٰ کی صفات سے کچھ مشابہت نہیں رکھتیں اور نہ ان کے مقابلے میں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔ دوسرا حل یہ ہے کہ عرب کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے ”مثل“ کا لفظ کسی جیسے کے لئے نہیں بلکہ اس کی ذات اور شخصیت کے لئے استعمال کرتے ہیں، مثلاً ”مثلی لا یکذب“ سے مراد یہ نہیں کہ میرے جیسا شخص جھوٹ نہیں بولتا، بلکہ یہ ہے کہ ”میں جھوٹ نہیں بولتا۔“ اسی طرح ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی یہ نہیں کہ اسے جیسے شخص کی پروا نہیں کی جاتی، بلکہ مراد یہ ہے کہ ”اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔“ اسی طرح ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہاں ”کاف“ کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر ”کاف“ نہ لایا جاتا تو عربی محاورہ ذہن میں آنے سے خیال ایک غلط مفہوم کی طرف جاسکتا تھا، جیسے ”مثلہ لایعبوبہ“ کا معنی ہے کہ فلاں شخص کی کوئی پروا نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ”کاف“ کے بغیر ”لیس مثلہ شیء“ کا معنی یہ ہوسکتا تھا کہ (معاذ اللہ) اس کی ذات کوئی شے نہیں، یا اس کی کچھ حیثیت نہیں۔ اب ”لیس کمثلہ شیء“ کہنے سے یہ اندیشہ دور ہوگیا اور بات صاف ہوگئی کہ اس کی ذات جیسی کوئی چیز نہیں۔ طبری ، بقاعی، ابن ہشام اور بہت سے ائمہ نے یہاں ”مثل“ کو شخص، ذات یا نفس کا ہم معنی قرار دے کر اس کے شواہد پیش فرمائے ہیں۔ یہ حل معنوی طور پر بہت مضبوط ہے۔ تیسرا حل یہ ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ”مثل“ کا لفظ صفت شان کے معنی میں آیا ہے، جیسے یہ آیت :(مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھآ انھر من مآء غیر اسن) (محمد : 15)”اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں۔“ اسی طرح یہ آیت :(ولہ المثل الاعلیٰ فی السموت والارض) (الروم : 28)”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی صفت (شان) اسی کی ہے۔“ اس لئے ”لیس کمثلہ شیء“ کا معنی یہ ہے کہ ”اللہ کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔“ یہ حل سمجھنے میں سب سی آسان ہے، معنوی طور پر بالکل درست ہے اور ائمہ تفسیر سے منقول ہے۔ سیاق کے لحاظ سے بھی بہت مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات بیان فرمائی گی ہیں، پھر فرمایا کہ اس کی صفت جیسی کوئی چیز نہیں۔ (7) وھو السمیع البصیر :”السمیع البصیر“”ھو“ مبتدا کی خبر پر الف لام لانے سے قصرہ کا مفہوم پیدا ہوگیا ، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ یہ ”لیس کمثلہ شیء“ (اس کی ذات وصفات جیسی کوئی چیز نہیں) سے پیدا ہونے والے ایک سوال کا جواب ہے کہ ”لیس کمثلہ شیء“ کے باوجود یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع وبصیر ہے اور انسان بھی سمیع وبصیر ہے، جیسا کہ فرمایا :(فجعلنہ سمیعاً بصیراً) (الدھر : 2) ”سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔“ بلکہ سمع و بصر انسان کے علاوہ جانوروں میں بھی موجود ہیں اور حنانہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جمادات بھی سمع و بصر سے بےبہرہ نہیں ہیں، تو اللہ تعالیٰ بےمثل کیسے ہوا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کامل اور اصل سمیع وبصیر صرف اللہ تعالیٰ ہے، کسی اور میں پایء جانے والی یہ صفات اللہ تعالیٰ کی صفات سے کچھ مشابہت نہیں رکھتیں اور نہ ان کے مقابلے میں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بہت سے لوگوں کو ایسے اشکالات پیدا ہوئے کہ بیشمار مخلوق گمراہ ہوگئی، انہوں نے دیکھا کہ وہی ال فاظ اللہ تعالیٰ کے متعلق آرہے ہیں اور وہی مخلوق کے متعلق، مثلاً اللہ تعالیٰ کے متعلق آیا ہے :(ثم استوی علی العرش) (الاعراف : 53) (پھر وہ عرش پر بلند ہوا) اور مخلوق کے متعلق الفاظ ہیں :(لتستوا علی ظھورہ) (الزخرف :13) (تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو) اور یہ الفاظ :(فاذا استویت انت و من معک علی الفلک) (المومنون :28)) (پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جاؤ۔) اللہ تعالیٰ کے فرمان :(ید اللہ فوق ایدیھم) (الفتح : 10) (اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے) میں لفظ ”ید“ اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں کے لئے آیا ہے، یہی حال سمیع وبصیر کا ہے۔ اب کچھ لوگ اس وجہ سے گمراہ ہوگئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ قرار دیا۔ اس کے استواء اس کے ید، اس کے سمع و بصر اور اس کی دوسری صفات کو مخلوق کے ساتواء اس کے ید، اس کے سمع و بصر اور اس کی دوسری صفات کی طرح سمجھ بیٹھے، ان لوگوں کو ”مشبہہ“ کہتے ہیں اور کچھ اس وجہ سے گمراہ ہوگئے کہا نہوں نے یہ کہہ کر کہ اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں، اس کی ان صفات کا بھی انکار کردیا جو اس نے خود اپنی بیان فرمایء ہیں۔ انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ نہ عرش پر مستوی ہے، نہ اس کا ہاتھ ہے، نہ اس کا سمع و بصر ہے، نہ وہ کلام کرتا ہے، کیونکہ اگر ہم اس کے لئے یہ چیزیں تسلیم کریں تو وہ مخلوق جیسا ٹھہرتا ہے۔ ان منکرین صفات کو ”معطلہ“ کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تشبیہ و تعطیل دونوں سے بلندو برتر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی صفات کا مسئلہ انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے، اس میں کوئی پیچیدگی یا اشکال باقی نہیں رہنے دیا۔ خلاصہ اس کا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہ آیات صفات میں حق دو چیزوں سے مرکب ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی صفات کی مشابہت سے پاک سمجھا جائے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنی جو بھی صفت بیان فرمائی ہے، یا اس کے رسول ﷺ نے اس کی جو بھی صفت بیان فرمائی ہے اس پر مکمل ایمان رکھا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا، جیسا کہ فرمایا :(قلء انتم اعلم ام اللہ) (البقرہ : 130)”کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ ؟“ اور اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اللہ ﷺ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم رکھنے والا کوئی نہیں۔ آپ ﷺ کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی) (النجم : 303)”اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ اب جو شخص کسی ایسی صفت کی نفی کرے جو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے لئے بیان فرمائی ہے، یا اس کے رسول ﷺ نے بیان فرمائی ہے، یہ کہہ کر یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں، تو وہ اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول سے بھی زیادہ علم رکھنے والا سمجھتا ہے کہ اللہ کی شان کے لائق کون سی بات ہے اور کون سی نہیں۔ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ ہیں وہ بھی ملحد اور گمراہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور یہ اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ سمجھتا ہے۔ ہاں جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیء ان تمام صفات کو مانتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے باین کی ہیں، یا اس کے رسول نے اس کے لئے بیان کی ہیں اور ساتھ ہی اللہ عزو جل اور اس کی صفات کو مخلوق کی مشابہت سے پاک قرار دیات ہے، یہ صحیح مومن ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر بھی ایمان رکھتا ہے اور اس کی مخلوق کی مشابہت سے پاک ہونے پر بھی ایمان رکھتا ہے۔ زیر تفسیر آیت :(لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر) نے اس حقیقت کو خوب واضح فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سمع و بصر کی صفات بھی روکتا ہے اور کوئی چیز اس کی مثلا ور مشابہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ”وھو العلی العظیم“ کے بجائے ”وھو السمیع البصیر“ اس لئے فرمایا کہ سمع و بصر کی دونوں صفات تمامح یوانات میں بھی پائی جاتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ دونوں صفات رکھتا ہے لیکن اس کی ان صفات کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور مخلوق کی صفات میں کوئی مماثلت نہیں، اس لئے ”وھو السمیع البصیر“ کا لفظ ”لیس کمثلہ شیء“ کہنے کے بعد ارشاد فرمایا۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اس لئے انکار کیا ہے کہ صفات کے لئے وہی الفاظ مخلوق پر بھی آئے ہیں، انھیں لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کے وجود اور اس کی حیات کا بھی انکار کردیں، کیونکہ مخلوق کی بھی ذات ہے ، وہ بھی وجود رکھتی ہے اور اس میں بھی حیات پائی جاتی ہے، مگر جس طرح خلاق اور مخلوق میں کوئی مماثلت نہیں اور دونوں کی ذات، وجود اور حیات میں کوئی مماثلت نہیں، اسی طرح خلاق و مخلوق کی کسی صفت میں بھی کوئی مماثلت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کامل اور حقیقی ہیں۔ مخلوق کی صفات اگرچہ ان کے حسب حال موجود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابلے میں کالعدم ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وھو السمیع البصیر) وہی سمیع وبصیر ہے اور کوئی نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی انسان کو سمیع وبصیر بتایا ہے۔ اس کی تھوڑی سی تفصیل سنیے، متکلمین اللہ تعالیٰ کی بیشمار صفات میں سے سات صفات کو صفات معانی کہتے ہیں، وہ ہیں حیات، قدرت ، ارادہ علم، سمع، بصر اور کلام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت حیات خود بیان فرمائی، فرمایا :(ھو الحی لا الہ الا ھو) (المومن : 65)”وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اور فرمایا :(و توکل علی الحی الذی لایموت) (العرفان : 58)”اور اس زندہ پر بھروسہ کر جو نہیں مرے گا۔“ اور دوسری بہت سی آیات۔ مخلوق کی صفت بھی حیات بیان فرمائی، فرمایا :(وسلم علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیاً (مریم : 15)”اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔“ اور فرمایا :(وجعلنا من المآء کل شیء حی) (الانبیائ : 30)”اور ہم نے اپنی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ اور فرمایا :(یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی) (الروم : 19) ”وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔“ یہاں دیکھیے ”ھو الحی“ (صرف وہ زندہ ہے) کہنے کے باوجود مخلوق کی حیات کا بھی ذکر فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی اور کامل حیات صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مخلوق کو بھی اس کے حساب حال ایک طرح کی حیات حاصل ہے، مگر خالق و مخلوق کی حیات میں اتنی ہی منافات ہے جتنی دونوں کی ذات میں ہے، خالق والی حیات کا ایک شمہ بھی مخلوق کو حاصل نہیں۔ دوسری صفت قدرت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ صفت خود بیان فرمائی ہے، فرمایا :(واللہ علی کل شیء قدیر) (البقرۃ :283)”اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ مخلوق کے متعلق بھی یہ لفظ استعمال فرمایا :(الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم) (المائدۃ : 37)”مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پاؤ۔“ اللہ تعالیٰ کی قدرت حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہے، جبکہ مخلوق کی قدرت صرف اس کے حساب حال ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مخلوق کی قدرت میں اتنی منافات ہے جتنی دووں کی ذات میں ہے۔ تیسری صفت ارادہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(فعال لمایرید) (ھود : 108) ”کر گزرنے والا ہے جو چاہتا ہے۔“ اور فرمایا :(انما امرہ اذا اراد شیاً ان یقول لہ کن فیکون) (یٰسین : 82) ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہوجا“ تو وہ ہوجاتی ہے۔“ اور فرمایا :(یرید اللہ یکم الیسر ولا یرید بکم العسر) (البقرہ :185) ”اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور دوسری آیات۔ مخلوق کے ارادے کا بھی ذکر کیا، فرمایا :(تریدون عرض الدنیا) (الانفال :88)”تم دنیا کا سامان چاہتے ہو۔“ اور فرمایا :(ان یریدون الا فراراً) (الاحزاب : 13)”وہ بھاگنے کے سوا کچھ چاہتے ہی نہیں۔“ اور فرمایا (یریدون لیطفوا نور اللہ) (الصف : 8) ”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں۔“ اور دوسری آیات۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا ارادہ حقیقی کامل اور اس کی ذات کے لائق ہے، جبکہ مخلوق کا ارادہ اس کے حسب حال ہے۔ دونوں کے ارادوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا دونوں کی ذات میں ہے۔ چوتھی صفت علم ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(واللہ بکمل شیء علیم) (البقرہ : 282) ”اور اللہ ہر چیز کو شہادت دیتا ہے اس کے متعلق جو اس نے تیری طرف نازل کیا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا :(وانہ لذوعلم لما علمنہ) (یوسف : 68) ”اور بلاشبہ وہ یقیناً بڑے علم والا تھا، اس وجہ سے کہ ہم علم اس کے حال کے مناسب ہے۔ خلاق و مخلوق کے علم میں اتنی ہی منافات ہے جتنی خالق و مخلوق کی ذات میں ہے۔ پانچویں اور چھٹی صفت سمع و بصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر) (الشوریٰ : 11)”اس کی ثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ اور فرمایا :(وان اللہ سمیع بصیر) (الحج : 61) ”اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا : (ان خلقنا الانسان من طفۃ امشاج ، نبتلیہ فجعلنہ سمیعاً بصیراً) (الدھر : 2)”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔“ اور فرمایا :(اسمع بھم وابصر یوم یاتوتنا) (مریم : 38) ”کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس در دیکھنے والے جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے۔“ اور اس جیسی آیات۔ تو اللہ عزو جل کے سمع و بصر حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہیں اور مخلوق کے سمع و بصر ان کے حال کے مناسب ہیں۔ جس طرح خالق و مخلوق کی ذات میں کوئی مماثلت نہیں، ان کے سمع و بصر میں بھی کوئی مماثلت نہیں۔ ساتویں صفت کلام ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا :(وکلم اللہ موسیٰ تکلیماً) (النسائ : 163) ”اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔“ اور فرمایا :(الی اصطنیتک علی الناس برسلتی و بکلامی) (الاعراف : 133)”بیشک میں نے تجھے اپنے پیغامات اور اپنے کالم کے ساتھ لوگوں پر چن لیا ہے۔“ اور فرمایا :(فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ) (التوبۃ : 6)”تو اسے پناہ دے دے، یاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔“ اور مخلوق کے متعلق فرمایا۔ (فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین) (یوسف : 53) ”پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔“ اور فرمایا :(الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم) (یٰسین : 65) ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ کا کلام حقیقی، کامل اور اس کی شان کے لائق ہے اور مخلوق کی صفت بھی کلام ہے جو اس کے حسب حلا ہے اور خلاق و مخلوق کے کلام میں اتنی ہی منافات ہے جتنی ان دونوں کی ذات میں ہے۔ اہل علم یہ بحث تفصیل سے پڑھنا چاہیں تو مفسر شنقیطی کی ”اضواء البیان“ میں سورة اعراف کی آیت (54) :(ثم استوی علی العرش) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ اتنی واضح بات بڑے بڑے مفسر اور مصنف نہیں سمجھ سکے۔ وہ جہاں ”استواء علی العرش“ کا لفظ آئے گا اس کا اناکر کرتے ہوئے کہیں گے اس سے مراد حکومت کرنا ہے، سمع و بصر آئے گا تو کہیں گے اس سے مراد علم ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت، رضا ، غضب، انتقام، اس کے نزول اور دوسری صفات کا مطلب کچھ اور ہی بیان کرتے ہوئے اصل صفات کا انکار کردیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ سلف صالحین اور محمد ثین ہی اس مقام پر سلامت رہے ہیں، ان کی ترجمانی امام مالک ؒ نے فرمائی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا :”الاستواء معلوم والکیف مجھول والسوال عنہ بدعۃ“ (اللہ تعالیٰ) کا عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے اور یہ بات کہ کیسے مستوی ہے، کسی کو معلوم نہیں اور یہ پوچھنا کہ کیسے مستوی ہے بدعت ہے۔“ بالکل اسی طرح ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع ہے، بصیر ہے، اس کے ہاتھ ہیں، آنکھیں ہیں، چہرہ ہے، وہ محبت کرتا ہے، ناراض ہوتا ہے، کلام کرتا ہے، ہنستا ہے، اترتا ہے اور قیامت کے دن زمین پر آئے گا، مگر ہمیں ان صفات کی کیفیت معلوم نہیں، نہ ہم عاجز مخلوق اس بےنہایت خلاق کی ذات یا صفات کی حقیقت یا کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اس کی ان تمام صفات کو انھی الفاظ و معانی میں مانتے ہیں جو خود اس نے یا اس کے نبی مکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں اور ان تمام لوگوں کی باتوں سے بری ہونے کا اعلان کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات نہیں ہیں، یا کہتے ہیں کہ مخلوق جیسی ہیں، یا کہتے ہیں کہ ہمیں ان صفات کے معنی ہی کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر استقامت عطا فرمائے۔ (آمین)
Top