Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 53
صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠   ۧ
صِرَاطِ اللّٰهِ : راستہ اللہ کا الَّذِيْ : وہ ذات لَهٗ : اس کے لیے ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو آسمانوں میں ہے وَمَا فِي : اور جو، میں الْاَرْضِ : زمین (میں) ہے اَلَآ : خبردار اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف تَصِيْرُ : رجوع کرتے ہیں، لوٹتے ہیں الْاُمُوْرُ : تمام معاملات۔ سارے امور
جو اس خدا کا راستہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے آگاہ رہو تمامکام اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے۔
(53) جو اس اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے آگاہ رہو تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے اور اللہ تک پہنچ ہے کاموں کی۔ یعنی جس طرح ہم نے جس طرح اور رسولوں پر اپنے احکام بذریعہ کتب اور صحف نازل کئے ہیں اسی طرح اس قرآن کو جو ہمارا حکم ہے یا ہمارے کلام سے ہے اس کو ہم نے آپ کی جانب بھیجا ہے آپ کو اس کے نزول سے پہلے معلوم نہ تھا کہ کتاب اللہ کیا ہے اور اسی طرح آپ یہ بھی نہ جانتے کہ منتہائے ایمان کیا ہے گو نفس ایمان تھا جیسا کہ ہر نبی کو نبوت سے پہلے ایمان ہوتا ہے لیکن منتہائے ایمان اور تفصیلی ایمان نبوت کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے آپ ایمان کے انتہائی مراتب کو نہیں جانتے تھے لیکن ہم نے اس قرآن کو ایک ایسا نور بنا کر بھیجا ہے جس سے ہم جس کو چاہتے ہیں اور اپنے بندوں میں سے ہدایت عطا فرماتے ہیں قرآن کو شاید روح اس لئے فرمایا کہ یہ مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے اور قلب میں آثار حیات اس قرآن کی برکت سے پیدا ہوجاتے ہیں آگے آپ کے ہادی برحق ہونے کی توثیق فرمائی کہ بیشک آپ لوگوں کو صراط مستقیم کی رہنمائی فرماتے ہیں اور آپ داعی برحق ہیں صراط مستقیم اور سیدھی راہ کی تفصیل بیان فرمائی کہ یہ راستہ ہی اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کا مالک ہے سب کچھ اسی کا ہے سب اس کے مملوک اور مخلوق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو راستہ آپ دکھاتے ہیں وہ راستہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے جو ہر اس چیز کا مالک ہے جو آسمانوں اور زمین میں……ہے۔ پھر فرمایا سن لو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تمام امور کا مرجع ہے ۔ آخری آیت کا آخری ٹکڑا وعد اور وعید دونوں کو شامل ہے یعنی تمام امور کا مرجع ہے جب اسی کی ذات ہے تو وہ سزادے گا اور نیک لوگوں کو صلہ عطا فرمائے گا۔ نبی کریم ﷺ سے منقول ہے کہ جس نے سورة حٰم ٓ عسق کر پڑھا تو وہ فرشتے اس کو شاباشیں دیتے ہیں اور اس کیلئے بخشش مانگتے اور رحمت طلب کرتے ہیں۔ تم تفسیر سورة الشوریٰ
Top