Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 53
صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠   ۧ
صِرَاطِ اللّٰهِ : راستہ اللہ کا الَّذِيْ : وہ ذات لَهٗ : اس کے لیے ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو آسمانوں میں ہے وَمَا فِي : اور جو، میں الْاَرْضِ : زمین (میں) ہے اَلَآ : خبردار اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف تَصِيْرُ : رجوع کرتے ہیں، لوٹتے ہیں الْاُمُوْرُ : تمام معاملات۔ سارے امور
(یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)
صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض الا الی اللہ تصیر الامور یعنی اللہ کے راستہ کی طرف کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ے۔ سن لو کہ اللہ ہی طرف (براہ راست) تمام امور جائیں گے۔ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ ہی کی مملوک اور اسی کی مخلوق ہے۔ الْاُمُوْرُ یعنی مخلوق کے تمام امور براہ راست ‘ بلاواسطہ قیامت کے دن اللہ ہی کے پاس منتقل ہوں گے ‘ تمام درمیانی تعلقات اور وسائط ختم ہوجائیں گے۔ اس آیت میں اطاعت گذاروں کیلئے (اچھے انجام کا) وعدہ اور مجرموں کیلئے (عذاب کی) وعید ہے۔ وا اللہ اعلم بحمد اللہ تفسیر سورة الشوریٰ شنبہ کے دن 13/ربیع الاوّل 1208 ھ ؁ کو ختم ہوئی اس کے بعد انشاء اللہ سورة الزخرف کی تفسیر آئے گی۔ وصلّی اللہ تعالیٰ عَلٰی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین
Top