Al-Qurtubi - Ash-Shura : 53
صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠   ۧ
صِرَاطِ اللّٰهِ : راستہ اللہ کا الَّذِيْ : وہ ذات لَهٗ : اس کے لیے ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو آسمانوں میں ہے وَمَا فِي : اور جو، میں الْاَرْضِ : زمین (میں) ہے اَلَآ : خبردار اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف تَصِيْرُ : رجوع کرتے ہیں، لوٹتے ہیں الْاُمُوْرُ : تمام معاملات۔ سارے امور
(یعنی) خدا کا راستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)
صراط اللہ یہ پہلے صراط سے بدل ہے جس طرح معرفہ نکرہ سے بدل ہوتا ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے فرمایا : اس سے مراد قرآن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد اسلام ہے۔ حضرت نواس بن سمعان نے یہ نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ الذی لہ ما فی السموت و ما فی الارض یعنی ملک، بندہ اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے الا الی اللہ تصیر الا مور۔ دو بار اٹھانے اور جزا دینے کی وعید ہے۔ سہیل بن ابی جعد نے کہا : ایک مصحف جل گیا اس میں سے صرف الا الی اللہ تصیر الا مور۔ باقی بچا۔ ایک مصحف غرق ہوا اس میں سے سب مٹ گیا صرف الا الی اللہ تصیر الا مور۔ باقی بچا۔ والحمدللہ وحدہ۔
Top