Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 53
صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠   ۧ
صِرَاطِ اللّٰهِ : راستہ اللہ کا الَّذِيْ : وہ ذات لَهٗ : اس کے لیے ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو آسمانوں میں ہے وَمَا فِي : اور جو، میں الْاَرْضِ : زمین (میں) ہے اَلَآ : خبردار اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف تَصِيْرُ : رجوع کرتے ہیں، لوٹتے ہیں الْاُمُوْرُ : تمام معاملات۔ سارے امور
یعنی اس اللہ کے راستے کی طرف جس کے لئے وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے آگاہ رہو کہ اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب کام2
112 ایک اہم تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تنبیہ و تحضیض کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " آگاہ رہو ۔ اے لوگو !۔ کہ اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب کام "۔ یعنی آخرت میں جہاں پر وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ پس تم دیکھ لو کہ وہاں کے لئے کیا لے کر جا رہے ہو کہ خواہی نخواہی تم سب کو لوٹ کر جانا بہرحال اسی کی طرف ہے۔ نیز اس سے پہلے اس دنیا میں بھی سب کاموں کا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اسباب کے درجے میں تم لوگ محنت و مشقت اور دوڑ دھوپ تو بیشک کرو لیکن دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھو کہ آخری منظوری بہرحال اس قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہی کی طرف سے ہوگی ۔ اَللّٰہُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الاُمُوْرِ کُلِّہَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْی الدُّنْیَا وعَذَابِ الْاٰخِرَۃ بِمَنِّکَ وَکَرَمِکَ یا ارْحَمَ الرَّحمِیْنَ وَ یَا اَکْرَمَ الاکرمین ۔ سو اس ارشاد عالی سے لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ تم سب لوگ کان کھول کر سن لو کہ تمہارے سب کاموں اور جملہ امور کا رجوع بہرحال اسی خالق کل اور مالک مطلق کی طرف ہوگا۔ اور اسی کی طرف ہوتا ہے۔ جس کا وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں و زمین کی اس پوری کائنات میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اصل فکر و کوشش بہرحال اسی کی ہونی چاہیئے کہ اس وحدہ لاشریک کے ساتھ معاملہ ہمیشہ اور ہر حال میں صحیح رہے ۔ وباللہ التوفیق سبحانہ و تعالیٰ.
Top