Kashf-ur-Rahman - Al-Hashr : 5
مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ
مَا قَطَعْتُمْ : جو تم نے کاٹ ڈالے مِّنْ : سے لِّيْنَةٍ : درخت کے تنے اَوْ : یا تَرَكْتُمُوْهَا : تم نے اس کو چھوڑدیا قَآئِمَةً : کھڑا عَلٰٓي : پر اُصُوْلِهَا : اس کی جڑوں فَبِاِذْنِ اللّٰهِ : تو اللہ کے حکم سے وَلِيُخْزِيَ : اور تاکہ وہ رسوا کرے الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانوں کو
اے مسلمانو ! جن کھجور کے درختوں کو تم نے کاٹ ڈالا یا جن کو تم نے اس حالت پر چھوڑ دیا کہ وہ اپنی جڑوں پر کھڑے رہے تو یہ سب خدا تعالیٰ کے حکم کے موافق ہوا اور یہ اس لئے ہوا تاکہ کافروں کو ذلیل ورسوا کرے۔
(5) اے مسلمانو ! کھجور کے جن درختوں کو تم نے کاٹ ڈالا یا جن درختوں کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا ہوا چھوڑ دیا اور جڑوں پر ان کو کھڑا چھوڑے رکھا تو یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہوا اور اس لئے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں اور بےحکموں کو رسوا کرے۔ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ محاصرے کے زمانے میں بعض مسلمانوں نے پھل دار درخت کاٹ دیئے تھی اور اگرچہ پھل دار درختوں کا کٹنا معیوب سمجھا جاتا تھا بعض مسلمانوں نے محض اس بنا پر کہ یہود کو اس سے قلبی اذیت پہنچے گی کچھ درخت کاٹ دیئے اور بعض مسلمانوں نے یہ خیال کرکے کہ یہ درخت ان کو جلاوطنی کے بعد ہمارے ہی کام آئیں گے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا۔ مدینے کے بعض یہود نے طعن بھی کیا کہ مسلمانوں نے پھل دار درخت کاٹ دیئے اور یہ فساد ہے اس لئے مسلمان مفسد ہیں حق تعالیٰ نے دونوں فریق کی تصویب فرما دی چونکہ دونوں کی نیت صحیح تھی اس لئے دونوں کو بری الذمہ فرمادیا۔ لینۃ کے معنی بعض لوگوں نے مطلق درخت یا کھجوروں کے درخت کئے ہیں اور بعض نے لیننہ خاص بیش قیمت کھجوروں کے درخت کر کہا ہے۔ غرض : یہ کام اس لئے ہوا تاکہ مسلمانوں کو عزت دے اور نافرمانوں کو رسوا کرے آگے اس مال غیر منقولہ کی تفصیل مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب وہ قلعے میں بند ہوئے حضرت نے حکم دیا کہ ان کے باغ کاٹو اور کھیت اجاڑو تاکہ اس کے درد سے باہر نکل کر لڑیں پھر کاٹنے لگے وہ طعن کرنے کو ہم کو تو کافر کہتے ہو اس سے مارتے ہو کیا درخت بھی کافر ہے جو کاٹتے ہو یعنی مسلمانوں کو شبہ آنے لگا یہ آیت اتری۔
Top