Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - An-Nahl : 29
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ
اِنَّ
: بیشک
فِرْعَوْنَ
: فرعون
عَلَا
: سرکشی کر رہا تھا
فِي الْاَرْضِ
: زمین (ملک) میں
وَجَعَلَ
: اور اس نے کردیا
اَهْلَهَا
: اس کے باشندے
شِيَعًا
: الگ الگ گروہ
يَّسْتَضْعِفُ
: کمزور کر رکھا تھا
طَآئِفَةً
: ایک گروہ
مِّنْهُمْ
: ان میں سے
يُذَ بِّحُ
: ذبح کرتا تھا
اَبْنَآءَهُمْ
: ان کے بیٹوں کو
وَيَسْتَحْيٖ
: اور زندہ چھوڑ دیتا تھا
نِسَآءَهُمْ
: ان کی عورتوں کو
اِنَّهٗ
: بیشک وہ
كَانَ
: تھا
مِنَ
: سے
الْمُفْسِدِيْنَ
: مفسد (جمع)
کہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور انکی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا بیشک وہ مفسدوں میں تھا
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں سے کہتا ہے۔ انا ربکم الاعلی۔ انا ربکم الاعلی میں سب کا رب اعلیٰ ہوں زمین پر رہنے والا تو اپنا بھی رب نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ زمین کے ایک خطہ کے باشندوں کا رب بن سکے۔ کسی نے سچ کہا الجنون فنون جنون کی بہت سی قسمیں ہیں۔ غرض یہ کہ فرعون نے بڑا تکبر کیا اور وہی اس کو لے کر ڈوبا۔ دیکھ لو اور سوچ لو کہ حق سے تکبر کا کیا انجام ہوتا ہے اور اہل مصر کو اس نے گروہ گروہ کردیا۔ قبطیوں کو معزز بنایا اور بنی اسرائیل کو ان کا خادم بنایا۔ وہاں کے باشندوں میں سے ایک گروہ کو یعنی بنی اسرائیل کو کمزور جانتا تھا اور ان سے بیگار لیتا تھا بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں یعنی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تاکہ ان سے خدمت لے نیز ان سے کوئی اندیشہ بھی نہ تھا۔ تحقیق یہ بدبخت بڑے ہی مفسدوں میں سے تھا۔ غرور کے نشہ میں جو دل میں آتا بےسوچے سمجھے کر گزرتا جھجکتا نہ تھا زجاج کہتے ہیں تعجب ہے فرعون کی حماقت پر۔ کیونکہ جس کاہن نے اس کو یہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل کے ایک مولود کے ہاتھ پر اس کا ملک جاتا رہے گا اگر وہ کاہن فرعون کے نزدیک سچا تھا تو یہ قتل اور یہ بےرحمی اور ایذا رسانی اس کو نفع نہ دے گی۔ اور اگر جھوٹا تھا تو یہ قتل اور ظلم بےمعنی اور بیکار تھا۔ شیخ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) مع سارہ (علیہ السلام) کے ابتداء ہجرت میں ملک مصر میں داخل ہوئے تو شاہ مصر نے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو بدی کے خیال سے گرفتار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مرگی میں مبتلا کردیا اور اس کے ہاتھ اور پاؤں بیکار ہوگئے۔ اس نے اپنے اس خیال بد سے توبہ کی اور حضرت سارہ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست کی۔ حضرت سارہ (علیہ السلام) کی دعا کی برکت سے اس سے یہ کیفیت دور ہوئی تو اس نے آپ کی خدمت کے لئے آپ کو ہاجرہ (علیہ السلام) دے کر رخصت کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاجرہ (علیہ السلام) بعض ملوک قبط کی لونڈی تھیں اور بعض کہتے ہیں کہ ہاجرہ (علیہ السلام) فرعون مصر کی بیٹی تھیں۔ بطور اعزاز واکرام ان کو ہدیۃ دیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو بشارت دی کہ تیری اولاد میں سے ایک شخص ہوگا کہ جس کے ذریعہ مصر کی بادشاہت ختم ہوگی اور مصر کا بادشاہ ہلاک ہوگا۔ بنی اسرائیل آپس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پیش گوئی کا ذکر کیا کرتے تھے۔ شدہ شدہ یہ خبر فرعون کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔ یہ خبر سن کر فرعون ڈر گیا اور بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔ احمق کو یہ خبر نہ تھی کہ حذر (احتیاط اور تدبیر) قضاء وقدر سے نہیں بچا سکتی جس سے اس کو ڈر تھا خدا تعالیٰ نے اس کی پرورش خود اس کے ہاتھ سے اسی کے گھر میں کرا دی۔ (تفسیر ابن کثیر ص 379 ج 3) در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود قصہء فرعون زیں افسانہ بود غرض یہ کہ فرعون اسی فکر میں تھا کہ بنی اسرائیل کو فنا کر دے یہاں تک کہ ان کا نام ونشان بھی نہ رہے اور ہمارا ارادہ اور مشیت یہ تھی کہ ہم ان لوگوں پر اپنا فضل وکرم کریں کہ جو زمین مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے اور ان کو پیشوائے دین بنائیں اور دنیا میں ملک اور سلطنت کا وارث بنائیں اور زمین میں ان کو تمکین اور دست رسی بخشیں یعنی اپنی قدرت اور اختیار سے ملک مصر میں تصریف کریں اور حکم جاری کریں اور فرعون اور ہامان کو اور ان کے لشکروں کو انہی کمزوروں سے وہ چیز دکھلادیں جس سے وہ ڈر رہے تھے اور بچ رہے تھے اور جس سے بچنے کے لئے بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو ذبح کر رہے تھے مگر قضاء وقدر کے سامنے اس کی یہ تدبیر کام نہ آئی۔ چناچہ وہ مولود مسعود پیدا ہوا اور جس کے ڈر سے فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرا رہا تھا۔ خدا نے اسی بچہ کی تربیت اور سامان راحت کا انتظام فرعون ہی کے گھر میں کردیا چناچہ فرماتے ہیں اور انہی دنوں جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ پر خوف طاری ہوا کہ اب یہ بچہ مجھ سے لے کر ذبح کردیا جائے گا تو اس وقت ہم نے ان کی والدہ کو الہام (ف 1) کیا کہ جب تک اخفا ممکن ہو تو تم بےخوف وخطر اس بچہ کو دودھ پلاتی رہو تاکہ وہ تیرے مبارک دودھ سے ایسا مانوس ہوجائے کہ پھر کسی اور کسی کا دودھ قبول ہی نہ کرے پھر جب تم اس کے متعلق کوئی اندیشہ لاحق ہو تو اس کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو اور نہ اس کے ڈوبنے کا اور نہ اس کے ضائع ہونے کا خوف کرو اور نہ اس کی جدائی سے حزیں اور غمگین ہو تو یقین رکھو کہ ہم پر بلاشبہ اس کو تمہاری طرف واپس کردیں گے اور اسی پر بس نہ کریں گے بلکہ آئندہ چل کر اس کو اپنے پیغمبروں میں سے بنائیں گے چناچہ ایسا ہی کیا گیا کہ ان کی والدہ نے ان کو ایک صندوق میں بند کر کے اللہ کے نام پر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اس دریا کی کوئی شاخ فرعون کے محل میں جاتی تھی۔ صندوق بہتا بہتا اسی جگہ جا پہنچا جہاں فرعون کی بیوی آسیہ اور دیگر اہل خانہ کھڑے تھے۔ پس فرعون کے اہل خانہ نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور کھولا۔ اس مولود مسعود کو جب دیکھا تو اس کے بےمثال حسن و جمال کو دیکھ کر فریفتہ ہوگئے جیسا کہ سورة طہ میں گزر چکا ہے۔ والقیت علیک محبتۃ منی یعنی جو شخص موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھتا وہ بےاختیار آپ (علیہ السلام) سے محبت اور پیار کرنے لگتا اس لئے اس کے قتل سے باز رہے اور پالنے کی غرض سے اس کو اٹھا لیا تاکہ آئندہ چل کر فرعونیوں کے لئے دشمن ثابت ہو اور ان کے رنج وغم کا سامان ہو اس طرح خدا تعالیٰ نے فرعون کا دشمن خود اسی کے گھر میں پرورش کے لئے پہنچا دیا۔ بیشک فرعون اور اس کا وزیر ہامان اور ان کے لاؤ لشکر سب کے سب خطاکار تھے۔ ان کو خبر نہ تھی کہ اس کے ہاتھ سے ہماری تباہی مقدر ہوچکی ہے اور اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ مجرمین اپنی سزا کو پہنچیں۔ گھر والے چاہتے تھے کہ اس بچہ کو قتل کردیں بایں خیال کہ یہ بچہ کہیں اسرائیلی نہ ہو اور کسی نے اس کی جان بچانے کے لئے اس کو دریا میں ڈال دیا ہو لیکن فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم نے فرعون سے کہا اس بچہ کے قتل کے درپے نہ ہو دیکھو کیسا پیارا بچہ ہے خیر اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے خوف کے مارے اپنے بچہ کو ڈالا ہے تو اگر یہ لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا۔ میرا گمان ہے کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس پر تو نظر ٹھہر (ف 2) جاتی ہے اس بچہ کو مت قتل کرو معلوم نہیں کہ کس سرزمین سے آیا ہے اور کس طرح سے آیا ہے۔ مجھے اس سے ضرر کا اندیشہ نہیں۔ شاید یہ ہمارے کام آوے اور ہم اس سے خیر کو پہنچیں کیونکہ مجھے اس میں خیر اور نفع کے آثار معلوم ہوتے ہیں یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ یہ اس لئے کہا کہ اس کے اولاد نہیں ہوتی تھی۔ فرعون بولا لک لالی تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا نہ کہ میری تقدیر ازلی نے یہ الفاظ اس کی زبان سے جبرا نکلوائے اگر آسیہ کی طرح فرعون بھی لی کہہ دیتا تو اس کو بھی ہدایت میں سے حصہ مل جاتا۔ بہرحال فرعون نے اور اہل خانہ نے اس بات کو مان لیا اور بچہ کو پالنے کے لئے اٹھا لیا 1 اشارہ اس طرف ہے کہ واوحینا الی ام موسیٰ میں وحی سے وحی الہام مراد ہے کہ جو اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے اس قسم کی وحی مراد نہیں جو انبیاء کرام کو ہوتی ہے۔ (ف 2) اشارہ اس طرف ہے کہ قرۃ۔ قرار سے مشتق ہے۔ منہ عفا اللہ عنہ۔ اور ان کو خبر نہ تھی کہ آئندہ چل کر کیا ہونے والا ہے اور ادھر یہ قصہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل صبر سے خالی ہوگیا اور قریب تھا کہ بےقراری کی وجہ سے بچہ کا حال ظاہر کردیں اور بےتابی کی وجہ سے راز فاش کردیں گے اگر ہم نے ان کے دل کو صبر کی رسی سے نہ باندھ دیا ہوتا تو راز کے فاش ہونے میں کچھ دیر نہ رہی تھی اور ہم نے اس کے دل پر صبر اور ہمت کی گرہ اس لئے لگائی کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا اور اس کو وعدہ الٰہی کا عین الیقین حاصل ہوجائے۔ فرعون کی محل سرائے میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو تمام شہر میں اس کی شہرت ہوگئی کہ صندوق میں سے ایک لڑکا برآمد ہوا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ جن کا نام ” یو حانذ “ تھا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن اپنی بیٹی سے کہا جن کا نام ” مریم “ یا ” کلثوم “ تھا۔ کہ جا اپنے بھائی کو تلاش کر اور اس کی کھوج لگا دریا کے کنارے کنارے بھائی کے ساتھ چلی جا اور دیکھ کہ کیا پیش آتا ہے چناچہ وہ نکل کھڑی ہوئیں اور دور سے دیکھتی چلیں اور فرعون کے دروازہ تک پہنچیں۔ پس اس نے بچہ کو دور سے دیکھا کہ وہ زندہ اور صحیح سالم ہے دور سے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کو اس طرح سے دیکھا کہ گویا اس کو کچھ غرض نہیں اور وہ لوگ جانتے نہ تھے کہ یہ دیکھنے والی اس کی بہن ہے اور کس تاک میں ہے غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح فرعون کے گھر میں پہنچے اور قتل سے بچ گئے اور ملکہ آسیہ نے پیار سے اس کو گود میں اٹھا لیا اور ان کے لئے اناؤں کی تلاش شروع ہوئی۔ اور جب انائیں ان کے واسطے آئیں تو ہم نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اناؤں کا دودھ ان پر حرام کردیا یعنی دودھ پینے سے روک دیا۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کسی انا کا دودھ نہ پی سکیں۔ یہ دیکھ کر ملکہ آسیہ اور سارے گھر والے پریشان ہوگئے اور شہر میں اناؤں کی تلاش شروع ہوئی۔ جو عورت بھی آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اس کا دودھ قبول نہ کرتے تکوینی اور تقدیری طور پر سب اناؤں کا دودھ ان پر حرام ہوچکا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن دور سے کھڑی یہ ماجرا دیکھتی رہیں کچھ دیر کے بعد بولیں کیا میں تم کو ایسے گھر والوں کو پتہ نہ دوں جو تمہارے لئے اس کی پرورش کی کفالت کریں یعنی اس کی رضاعت اور تربیت کے ضامن ہوں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں یعنی اس پر مشفق اور مہربان بھی ہوں۔ یہاں خود اس کی جستجو تھی فورا جا کر موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلا لائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی گود میں پہنچتے ہی دودھ پینا شروع کردیا۔ فرعون یا ملکہ آسیہ بولی کہ تو کون عورت ہے کہ اس بچہ نے سوائے تیرے پستان کے کسی کو منہ نہ لگایا۔ فرعون کے گھر والوں کو شبہ ہوا کہ یہ عورت کہیں اس کی ماں نہ ہو۔ عورت نے جواب دیا کہ میں ایک پاکیزہ عورت ہوں مجھ میں سے ایک خوشبو آتی ہے اور دودھ نہایت لطیف اور شیریں ہے جو بچہ بھی میرے پاس آتا ہے وہ میرا دودھ بہت خوشی سے پی لیتا ہے پس وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان سے یہ درخواست کی کہ یہیں رہا کریں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے عذر کردیا کہ میرا گھر ہے اور میرا شوہر ہے اور بچے ہیں اس لئے میں دن رات یہاں نہیں رہ سکتی لیکن اگر آپ پسند کریں تو اپنے گھر رکھ کر اس کو دودھ پلا سکتی ہوں۔ فرعون کے گھروالوں نے اس کو منظور کرلیا اور ایک دینار یومیہ اجرت مقرر ہوگئی۔ اور بچہ کو لے کر گھر واپس آگئیں۔ (تفسیر ابن کثیر ص 381 ج 3) حق تعالیٰ فرماتے ہیں پس اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں کی طرف واپس کردیا تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور بیٹے کی جدائی کا غم نہ رہے اور تاکہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اللہ نے جو بچہ کی واپسی کا وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوگیا۔ و لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ کس طرح پورا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمادیا اور دین ودنیا ہر دو اعتبار سے ان کی والدہ کو بلکہ سارے گھرانہ کو فکر معاش سے بےفکر کردیا۔ گھر بیٹھے مال وزر بھی پہنچ رہا ہے اور دو وقت الوان نعمت کا خوان کلاں بھی پہنچ رہا ہے خدا اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں سے یہ فائدہ پہنچاتا ہے۔
Top