Maarif-ul-Quran - An-Nahl : 29
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ
اِنَّ : بیشک فِرْعَوْنَ : فرعون عَلَا : سرکشی کر رہا تھا فِي الْاَرْضِ : زمین (ملک) میں وَجَعَلَ : اور اس نے کردیا اَهْلَهَا : اس کے باشندے شِيَعًا : الگ الگ گروہ يَّسْتَضْعِفُ : کمزور کر رکھا تھا طَآئِفَةً : ایک گروہ مِّنْهُمْ : ان میں سے يُذَ بِّحُ : ذبح کرتا تھا اَبْنَآءَهُمْ : ان کے بیٹوں کو وَيَسْتَحْيٖ : اور زندہ چھوڑ دیتا تھا نِسَآءَهُمْ : ان کی عورتوں کو اِنَّهٗ : بیشک وہ كَانَ : تھا مِنَ : سے الْمُفْسِدِيْنَ : مفسد (جمع)
کہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور انکی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا بیشک وہ مفسدوں میں تھا
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں سے کہتا ہے۔ انا ربکم الاعلی۔ انا ربکم الاعلی میں سب کا رب اعلیٰ ہوں زمین پر رہنے والا تو اپنا بھی رب نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ زمین کے ایک خطہ کے باشندوں کا رب بن سکے۔ کسی نے سچ کہا الجنون فنون جنون کی بہت سی قسمیں ہیں۔ غرض یہ کہ فرعون نے بڑا تکبر کیا اور وہی اس کو لے کر ڈوبا۔ دیکھ لو اور سوچ لو کہ حق سے تکبر کا کیا انجام ہوتا ہے اور اہل مصر کو اس نے گروہ گروہ کردیا۔ قبطیوں کو معزز بنایا اور بنی اسرائیل کو ان کا خادم بنایا۔ وہاں کے باشندوں میں سے ایک گروہ کو یعنی بنی اسرائیل کو کمزور جانتا تھا اور ان سے بیگار لیتا تھا بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں یعنی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تاکہ ان سے خدمت لے نیز ان سے کوئی اندیشہ بھی نہ تھا۔ تحقیق یہ بدبخت بڑے ہی مفسدوں میں سے تھا۔ غرور کے نشہ میں جو دل میں آتا بےسوچے سمجھے کر گزرتا جھجکتا نہ تھا زجاج کہتے ہیں تعجب ہے فرعون کی حماقت پر۔ کیونکہ جس کاہن نے اس کو یہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل کے ایک مولود کے ہاتھ پر اس کا ملک جاتا رہے گا اگر وہ کاہن فرعون کے نزدیک سچا تھا تو یہ قتل اور یہ بےرحمی اور ایذا رسانی اس کو نفع نہ دے گی۔ اور اگر جھوٹا تھا تو یہ قتل اور ظلم بےمعنی اور بیکار تھا۔ شیخ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) مع سارہ (علیہ السلام) کے ابتداء ہجرت میں ملک مصر میں داخل ہوئے تو شاہ مصر نے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو بدی کے خیال سے گرفتار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مرگی میں مبتلا کردیا اور اس کے ہاتھ اور پاؤں بیکار ہوگئے۔ اس نے اپنے اس خیال بد سے توبہ کی اور حضرت سارہ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست کی۔ حضرت سارہ (علیہ السلام) کی دعا کی برکت سے اس سے یہ کیفیت دور ہوئی تو اس نے آپ کی خدمت کے لئے آپ کو ہاجرہ (علیہ السلام) دے کر رخصت کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاجرہ (علیہ السلام) بعض ملوک قبط کی لونڈی تھیں اور بعض کہتے ہیں کہ ہاجرہ (علیہ السلام) فرعون مصر کی بیٹی تھیں۔ بطور اعزاز واکرام ان کو ہدیۃ دیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو بشارت دی کہ تیری اولاد میں سے ایک شخص ہوگا کہ جس کے ذریعہ مصر کی بادشاہت ختم ہوگی اور مصر کا بادشاہ ہلاک ہوگا۔ بنی اسرائیل آپس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پیش گوئی کا ذکر کیا کرتے تھے۔ شدہ شدہ یہ خبر فرعون کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔ یہ خبر سن کر فرعون ڈر گیا اور بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔ احمق کو یہ خبر نہ تھی کہ حذر (احتیاط اور تدبیر) قضاء وقدر سے نہیں بچا سکتی جس سے اس کو ڈر تھا خدا تعالیٰ نے اس کی پرورش خود اس کے ہاتھ سے اسی کے گھر میں کرا دی۔ (تفسیر ابن کثیر ص 379 ج 3) در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود قصہء فرعون زیں افسانہ بود غرض یہ کہ فرعون اسی فکر میں تھا کہ بنی اسرائیل کو فنا کر دے یہاں تک کہ ان کا نام ونشان بھی نہ رہے اور ہمارا ارادہ اور مشیت یہ تھی کہ ہم ان لوگوں پر اپنا فضل وکرم کریں کہ جو زمین مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے اور ان کو پیشوائے دین بنائیں اور دنیا میں ملک اور سلطنت کا وارث بنائیں اور زمین میں ان کو تمکین اور دست رسی بخشیں یعنی اپنی قدرت اور اختیار سے ملک مصر میں تصریف کریں اور حکم جاری کریں اور فرعون اور ہامان کو اور ان کے لشکروں کو انہی کمزوروں سے وہ چیز دکھلادیں جس سے وہ ڈر رہے تھے اور بچ رہے تھے اور جس سے بچنے کے لئے بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو ذبح کر رہے تھے مگر قضاء وقدر کے سامنے اس کی یہ تدبیر کام نہ آئی۔ چناچہ وہ مولود مسعود پیدا ہوا اور جس کے ڈر سے فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرا رہا تھا۔ خدا نے اسی بچہ کی تربیت اور سامان راحت کا انتظام فرعون ہی کے گھر میں کردیا چناچہ فرماتے ہیں اور انہی دنوں جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ پر خوف طاری ہوا کہ اب یہ بچہ مجھ سے لے کر ذبح کردیا جائے گا تو اس وقت ہم نے ان کی والدہ کو الہام (ف 1) کیا کہ جب تک اخفا ممکن ہو تو تم بےخوف وخطر اس بچہ کو دودھ پلاتی رہو تاکہ وہ تیرے مبارک دودھ سے ایسا مانوس ہوجائے کہ پھر کسی اور کسی کا دودھ قبول ہی نہ کرے پھر جب تم اس کے متعلق کوئی اندیشہ لاحق ہو تو اس کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو اور نہ اس کے ڈوبنے کا اور نہ اس کے ضائع ہونے کا خوف کرو اور نہ اس کی جدائی سے حزیں اور غمگین ہو تو یقین رکھو کہ ہم پر بلاشبہ اس کو تمہاری طرف واپس کردیں گے اور اسی پر بس نہ کریں گے بلکہ آئندہ چل کر اس کو اپنے پیغمبروں میں سے بنائیں گے چناچہ ایسا ہی کیا گیا کہ ان کی والدہ نے ان کو ایک صندوق میں بند کر کے اللہ کے نام پر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اس دریا کی کوئی شاخ فرعون کے محل میں جاتی تھی۔ صندوق بہتا بہتا اسی جگہ جا پہنچا جہاں فرعون کی بیوی آسیہ اور دیگر اہل خانہ کھڑے تھے۔ پس فرعون کے اہل خانہ نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور کھولا۔ اس مولود مسعود کو جب دیکھا تو اس کے بےمثال حسن و جمال کو دیکھ کر فریفتہ ہوگئے جیسا کہ سورة طہ میں گزر چکا ہے۔ والقیت علیک محبتۃ منی یعنی جو شخص موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھتا وہ بےاختیار آپ (علیہ السلام) سے محبت اور پیار کرنے لگتا اس لئے اس کے قتل سے باز رہے اور پالنے کی غرض سے اس کو اٹھا لیا تاکہ آئندہ چل کر فرعونیوں کے لئے دشمن ثابت ہو اور ان کے رنج وغم کا سامان ہو اس طرح خدا تعالیٰ نے فرعون کا دشمن خود اسی کے گھر میں پرورش کے لئے پہنچا دیا۔ بیشک فرعون اور اس کا وزیر ہامان اور ان کے لاؤ لشکر سب کے سب خطاکار تھے۔ ان کو خبر نہ تھی کہ اس کے ہاتھ سے ہماری تباہی مقدر ہوچکی ہے اور اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ مجرمین اپنی سزا کو پہنچیں۔ گھر والے چاہتے تھے کہ اس بچہ کو قتل کردیں بایں خیال کہ یہ بچہ کہیں اسرائیلی نہ ہو اور کسی نے اس کی جان بچانے کے لئے اس کو دریا میں ڈال دیا ہو لیکن فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم نے فرعون سے کہا اس بچہ کے قتل کے درپے نہ ہو دیکھو کیسا پیارا بچہ ہے خیر اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے خوف کے مارے اپنے بچہ کو ڈالا ہے تو اگر یہ لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا۔ میرا گمان ہے کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس پر تو نظر ٹھہر (ف 2) جاتی ہے اس بچہ کو مت قتل کرو معلوم نہیں کہ کس سرزمین سے آیا ہے اور کس طرح سے آیا ہے۔ مجھے اس سے ضرر کا اندیشہ نہیں۔ شاید یہ ہمارے کام آوے اور ہم اس سے خیر کو پہنچیں کیونکہ مجھے اس میں خیر اور نفع کے آثار معلوم ہوتے ہیں یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ یہ اس لئے کہا کہ اس کے اولاد نہیں ہوتی تھی۔ فرعون بولا لک لالی تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا نہ کہ میری تقدیر ازلی نے یہ الفاظ اس کی زبان سے جبرا نکلوائے اگر آسیہ کی طرح فرعون بھی لی کہہ دیتا تو اس کو بھی ہدایت میں سے حصہ مل جاتا۔ بہرحال فرعون نے اور اہل خانہ نے اس بات کو مان لیا اور بچہ کو پالنے کے لئے اٹھا لیا 1 اشارہ اس طرف ہے کہ واوحینا الی ام موسیٰ میں وحی سے وحی الہام مراد ہے کہ جو اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے اس قسم کی وحی مراد نہیں جو انبیاء کرام کو ہوتی ہے۔ (ف 2) اشارہ اس طرف ہے کہ قرۃ۔ قرار سے مشتق ہے۔ منہ عفا اللہ عنہ۔ اور ان کو خبر نہ تھی کہ آئندہ چل کر کیا ہونے والا ہے اور ادھر یہ قصہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل صبر سے خالی ہوگیا اور قریب تھا کہ بےقراری کی وجہ سے بچہ کا حال ظاہر کردیں اور بےتابی کی وجہ سے راز فاش کردیں گے اگر ہم نے ان کے دل کو صبر کی رسی سے نہ باندھ دیا ہوتا تو راز کے فاش ہونے میں کچھ دیر نہ رہی تھی اور ہم نے اس کے دل پر صبر اور ہمت کی گرہ اس لئے لگائی کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا اور اس کو وعدہ الٰہی کا عین الیقین حاصل ہوجائے۔ فرعون کی محل سرائے میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو تمام شہر میں اس کی شہرت ہوگئی کہ صندوق میں سے ایک لڑکا برآمد ہوا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ جن کا نام ” یو حانذ “ تھا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن اپنی بیٹی سے کہا جن کا نام ” مریم “ یا ” کلثوم “ تھا۔ کہ جا اپنے بھائی کو تلاش کر اور اس کی کھوج لگا دریا کے کنارے کنارے بھائی کے ساتھ چلی جا اور دیکھ کہ کیا پیش آتا ہے چناچہ وہ نکل کھڑی ہوئیں اور دور سے دیکھتی چلیں اور فرعون کے دروازہ تک پہنچیں۔ پس اس نے بچہ کو دور سے دیکھا کہ وہ زندہ اور صحیح سالم ہے دور سے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کو اس طرح سے دیکھا کہ گویا اس کو کچھ غرض نہیں اور وہ لوگ جانتے نہ تھے کہ یہ دیکھنے والی اس کی بہن ہے اور کس تاک میں ہے غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح فرعون کے گھر میں پہنچے اور قتل سے بچ گئے اور ملکہ آسیہ نے پیار سے اس کو گود میں اٹھا لیا اور ان کے لئے اناؤں کی تلاش شروع ہوئی۔ اور جب انائیں ان کے واسطے آئیں تو ہم نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اناؤں کا دودھ ان پر حرام کردیا یعنی دودھ پینے سے روک دیا۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کسی انا کا دودھ نہ پی سکیں۔ یہ دیکھ کر ملکہ آسیہ اور سارے گھر والے پریشان ہوگئے اور شہر میں اناؤں کی تلاش شروع ہوئی۔ جو عورت بھی آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اس کا دودھ قبول نہ کرتے تکوینی اور تقدیری طور پر سب اناؤں کا دودھ ان پر حرام ہوچکا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن دور سے کھڑی یہ ماجرا دیکھتی رہیں کچھ دیر کے بعد بولیں کیا میں تم کو ایسے گھر والوں کو پتہ نہ دوں جو تمہارے لئے اس کی پرورش کی کفالت کریں یعنی اس کی رضاعت اور تربیت کے ضامن ہوں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں یعنی اس پر مشفق اور مہربان بھی ہوں۔ یہاں خود اس کی جستجو تھی فورا جا کر موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلا لائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی گود میں پہنچتے ہی دودھ پینا شروع کردیا۔ فرعون یا ملکہ آسیہ بولی کہ تو کون عورت ہے کہ اس بچہ نے سوائے تیرے پستان کے کسی کو منہ نہ لگایا۔ فرعون کے گھر والوں کو شبہ ہوا کہ یہ عورت کہیں اس کی ماں نہ ہو۔ عورت نے جواب دیا کہ میں ایک پاکیزہ عورت ہوں مجھ میں سے ایک خوشبو آتی ہے اور دودھ نہایت لطیف اور شیریں ہے جو بچہ بھی میرے پاس آتا ہے وہ میرا دودھ بہت خوشی سے پی لیتا ہے پس وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان سے یہ درخواست کی کہ یہیں رہا کریں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے عذر کردیا کہ میرا گھر ہے اور میرا شوہر ہے اور بچے ہیں اس لئے میں دن رات یہاں نہیں رہ سکتی لیکن اگر آپ پسند کریں تو اپنے گھر رکھ کر اس کو دودھ پلا سکتی ہوں۔ فرعون کے گھروالوں نے اس کو منظور کرلیا اور ایک دینار یومیہ اجرت مقرر ہوگئی۔ اور بچہ کو لے کر گھر واپس آگئیں۔ (تفسیر ابن کثیر ص 381 ج 3) حق تعالیٰ فرماتے ہیں پس اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں کی طرف واپس کردیا تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور بیٹے کی جدائی کا غم نہ رہے اور تاکہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اللہ نے جو بچہ کی واپسی کا وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوگیا۔ و لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ کس طرح پورا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمادیا اور دین ودنیا ہر دو اعتبار سے ان کی والدہ کو بلکہ سارے گھرانہ کو فکر معاش سے بےفکر کردیا۔ گھر بیٹھے مال وزر بھی پہنچ رہا ہے اور دو وقت الوان نعمت کا خوان کلاں بھی پہنچ رہا ہے خدا اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں سے یہ فائدہ پہنچاتا ہے۔
Top