Tafseer-e-Madani - An-Nahl : 60
لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠   ۧ
لِلَّذِيْنَ : جو لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں رکھتے بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر مَثَلُ : حال السَّوْءِ : برا وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے الْمَثَلُ الْاَعْلٰى : شان بلند وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
بڑی بری مثال ہے ان لوگوں کی جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، اور سب سے برتر مثال تو اللہ ہی کے شایان شان ہے، اور وہی ہے زبردست، نہایت حکمت والا،3
114۔ ایمان سے محروم لوگوں کے لیے بڑی بری مثال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی بری مثال ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر۔ سو ایمان بالآخرت سے محرومی شروفساد کا وہ منبع ومصدر ہے جس سے آگے طرح طرح کی برائیاں پھوٹتی ہیں۔ جس کی ایک مثال ان کا یہی اعتقاد ہے کہ وہ اللہ پاک کے بارے میں بیٹیاں تجویز کرتے ہیں پس یہاں سے معلوم ہوا کہ عقیدہ آخرت سے محرومی ہر شروفساد کی جڑ بنیاد اور اس کا اصل باعث و محرک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ اس محرومی کے نتیجے میں انسان پٹڑی سے اتر جاتا ہے اور وہ راہ راست سے بھٹک کر طرح طرح کی پگڈنڈیوں میں دھکے کھانے اور ذلیل ہونے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور خاص کر جب یہ لوگ آخرت کا انکار کرکے صرف دنیا ہی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں تو پھر ان میں کسی خوبی و کمال کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ دنیا کے بارے میں فرمایا گیا " الدنیا جیفۃ وطالبھاکلاب، کہ دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طالب کتے " بلکہ یہ لوگ تو ان دنیاوی کتوں سے بھی کہیں بڑھ کر اور بدتر ہیں۔ کیونکہ دنیا کے معروف کتوں کو تو عقل کا جوہر نہیں بخشا گیا۔ اس لیے وہ حقیقی خیروشر کے فہم و ادراک سے قاصر ہیں۔ جبکہ بطن وفرج کی شہوات و خواہشات کے مارے ان ابنائے دنیا کو عقل وفکر کے اس گوہر نایاب سے نوازا گیا تاکہ یہ اس کو اس کے صحیح مصرف میں لگاکر اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کریں اور اس پر ایمان لاکر اور اس کی ہدایات وتعلیمات کو اپنا کر اپنے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کریں۔ لیکن انہوں نے اس کے برعکس عقل کے اس جوہر نایاب کو بھی بطن وفرج کی خواہشات کی تحصیل و تکمیل کے تقاضوں میں صرف کرکے اس کا بھی بیڑا غرق کردیا۔ اور اس طرح یہ بدبخت انسان ایسا اندھا اور اس طرح اوندھا ہوگیا کہ اس نے اپنی فطرت کے نور کو بھی گل کردیا اور یہ مہیب گھٹا ٹوپ اندھیروں میں (خسرالدنیا والاخرۃ) کا مصداق بن گیا جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ دنیا کا معروف کتا تو اپنے مالک مجازی کو پہچانتا ہے اور اس کی وفاداری میں کبھی وہ اپنی جان تک کی بازی لگا دیتا ہے لیکن انسانی اشکال و لباس میں چھپے ہوئے یہ کتے تو اپنے خالق ومالک حقیقی کے بھی باغی وسرکش بن کر " شرالبریہ " بدترین مخلوق بن جاتے ہیں۔ سو اس سے بڑھ کر بری مثال اور کیا ہوسکتی ہے جو ان منکرین آخرت پر چسپاں ہورہی ہے ؟ سو نور ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور انتہائی ہولناک محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 115۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے سب سے عمدہ مثال : کہ کمال مطلق اسی کے لیے ہے۔ اور وحدہ لاشریک ہی ہے جو ہر نقص وعیب سے پاک اور ہر خوبی و کمال سے متصف ہے۔ اور اس کون ومکان میں جو بھی اور جہاں بھی کوئی خوبی و کمال موجود ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کے وجود باجود اور بخشش وعطا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ فسبحان اللہ وبحمدی سبحان اللہ العظیم۔ وہ اپنی ذات میں آپ محمود اور ہر تعریف کا حق دار ہے۔ سو ایسی حکمتوں بھری عظیم الشان کائنات کی تخلیق اور اتنی گوناں گوں اور بےحدوحساب مخلوق کو پیدا کرنا اس کے لوازمات زندگی کو اس کے لیے مہیا کرنا اور اس کثرت وبہتات سے مہیا کرنا کہ ہر چیز اپنے وجود کے تقاضوں کو بسہولت پورا کرسکے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے کمال مطلق قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ وغیرہ صفات علیا اور اسماحسنی کے عظیم الشان مظاہر ہیں۔ جو حکمتوں بھری اس کائنات میں ہر چہار سو پھیلے بکھرے دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ تو کیا اس کمال مطلق کا وجود کسی بھی درجے میں اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کے لیے ممکن ہوسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ قطعا نہیں۔ فصدق اللہ القائل۔ (وللہ المثل الاعلی) سو وہی معبود برحق ہے۔ (ولہ الحمد فی الاولی والاخرۃ) سبحانہ وتعالیٰ ۔
Top