Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
تو کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تم کو یوں ہی بےکار پیدا کیا ہے ؟ اور تمہیں ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آنا ؟
130 انسان کی تخلیق بےمقصد و بےکار نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور تنبیہ و تحضیض کے لیے بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے ؟۔ اے غافل و بیخبر لوگو ! استفہام زجر و توبیخ اور تنبیہ و تذکیر کے لئے ہے۔ یعنی ایسا سمجھنا کہ ہم یونہی بےکار اور بےمقصد پیدا کئے گئے ہیں۔ سو ایسا سمجھنا بہت سنگین غلط فہمی اور ہولناک گمراہی ہے کہ اس سے پوری متاع زندگی ہی بےکار اور بےمقصد قرار پاتی ہے۔ اور اس کا انجام بڑا ہی بھیانک سخت اور انتہائی ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کائنات کی ایک ایک چیز تو بامقصد اور انسان کی خدمت میں مصروف ہو مگر خود یہ انسان جو اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع ہے یہ ایسا بیکار ہو کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہ ہو۔ سو اگر انسان صحیح طور سے اس بارے غور و فکر سے کام لے تو وہ پکار اٹھے اور دل کی گہرائیوں سے پکار اٹھے گا۔ مالک تو نے یہ سب کچھ یونہی بیکار اور بےمقصد نہیں پیدا فرمایا ۔ { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا فَقِنَا عَذَاب النَّارِ } - 131 سب کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب نے لوٹ کر اللہ ہی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور تنبیہ و تحضیض کے لیے بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا " اور کیا تو نے لوٹ کر ہمارے پاس نہیں آنا ؟ اور اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب نہیں دینا اور بدلہ نہیں پانا ؟ اور تم یونہی کیڑوں مکوڑوں اور برسات کی مینڈکوں کی طرح مر کھپ کر ختم ہوجاؤ گے اور بس ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ دنیا کی اس زندگی میں تمہارا وجود دراصل امتحان اور آزمائش کے لئے ہے۔ جو اس میں کامیاب ہوگیا، اس کے لئے آخرت کی سدا بہار کامیابی اور دائمی نعمتیں ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ اور جو اس میں ناکام ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کے لئے دوزخ کا ابدی عذاب اور وہاں کا دائمی ٹھکانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کے بارے میں یہ گمراہ کن تصور قائم کر رکھا ہے کہ ہمیں یونہی بیکار اور بےمقصد پیدا کیا گیا ہے اور ہم نے اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کی جوابدہی نہیں کرنی اور اس کے یہاں سے کوئی بدلہ نہیں پانا تو وہ لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں پڑے ہیں۔ اور ان کا یہ خسارہ کل قیامت کے اس یوم فصل میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور حقائق کا دن ہوگا پوری طرح سامنے آجائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فَاِذَا جَائَ اَمْرُ اللّٰہِ قُضِیَ بالْحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ } ۔ (المومن : 78) نیز فرمایا گیا { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسِرُ الْمُبْطِلُوْنَ } (الجاثیۃ :27) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Top