Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 16
ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ
ثُمَّ : پھر اِنَّكُمْ : بیشک تم يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : روز قیامت تُبْعَثُوْنَ : اٹھائے جاؤگے
پھر تم سب کو قیامت کے روز یقینا دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا2
18 بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر تم سب کو قیامت کے روز یقینا اٹھایا جائے گا "۔ تاکہ تم اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پا سکو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو جو قادر مطلق تمہیں عدم محض سے اس طرح وجود میں لے آیا اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو مستعد سمجھتے ہیں وہ بڑے ہی دھوکے اور خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ قدرت کی کارستانی کے یہ مختلف مراحل اس کے سامنے ہیں اور خود ان کی اپنی زندگیوں کے اندر موجود ہیں۔ مگر غفلت کے مارے اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔
Top