Taiseer-ul-Quran - Hud : 113
ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ
ثُمَّ : پھر اِنَّكُمْ : بیشک تم يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : روز قیامت تُبْعَثُوْنَ : اٹھائے جاؤگے
پھر بیشک تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔
ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ : انسانی زندگی کے مراحل کو بطور دلیل بیان کرکے اصل بات بیان فرمائی، جسے کافر ناممکن خیال کرتے تھے کہ پھر ایک مدت کے بعد یقیناً تم دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔ سورة حج میں واضح طور پر فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۭ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْــــًٔا ۭ وَتَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ) [ الحج : 5 ] ”اے لوگو ! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بیشک ہم نے تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمہارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کرلیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔“ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ أَرْبَعُوْنَ ، قَالُوْا یَا أَبَا ھُرَیْرَۃَ ! أَرْبَعُوْنَ یَوْمًا ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَۃً ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ شَھْرًا ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، وَیَبْلَی کُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِہِ ، فِیْہِ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و نفخ في الصور۔۔) : 4814 ] ”دو نفخوں کے درمیان چالیس کا عرصہ ہے ؟“ لوگوں نے کہا : ”اے ابوہریرہ ! چالیس دن کا ؟“ کہا : ”میں نہیں مانتا۔“ انھوں نے کہا : ”چالیس سال کا ؟“ کہا : ”میں نہیں مانتا۔“ انھوں نے کہا : ”چالیس ماہ کا ؟“ کہا : ”میں نہیں مانتا۔“ (کیونکہ دنیا کے ایام اور ماہ و سال کی بساط تو سورج کے ساتھ ہی لپیٹی جا چکی ہوگی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اور انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہوجائے گی، مگر اس کی دم کی ہڈی، اسی پر اس مخلوق کو جوڑا جائے گا۔“
Top