Tafseer-e-Madani - Al-Haaqqa : 36
وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ
وَّلَا طَعَامٌ : اور نہ کوئی کھانا اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍ : مگر پیپ کا۔ زخموں کے دھون کا
اور نہ ہی اس کے لئے کھانے کی کوئی چیز ہوگی بجز (دوزخیوں کے) زخموں کی اس دھو ون کے
30 دوزخیوں کا کھانا زخموں کی دھو ون۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے الفاظ و کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اس کیلئے کوئی کھانا ہوگا سوائے زخموں کی دھون کے۔ جو کہ دوزخیوں کے جسموں سے پیپ ‘ لہو اور کچ لہو وغیرہ کی صورت میں بہہ رہی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ واضح رہے کہ یہ حصر اضافی ہے یعنی کوئی مرغوب اور مفید غذا ان کو بہرحال نہیں ملے گی بلکہ غسلین ‘ زقوم ‘ اور حمیم جیسی سخت بری اور تکلیف دہ چیزیں ہی کھانے کو ملیں گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ غسلین ناپاک اور گندی چیزوں کے غسالہ یعنی دھو ون کو کہا جاتا ہے۔ سو ایسے لوگوں نے چونکہ اپنے مال و دولت کا مصرف اپنی تن پروری ‘ شکم پروری اور کام و دہن کی لذت ہی کو سمجھا اور اس حرص و ہوس میں مساکین و غرباء کے حقوق ہڑپ کرکے اپنے سارے مال کو انہوں نے نجس بنادیا اس لئے قیامت کے اس یوم حساب و جزاء میں ان کو ناپاک چیزوں کا غسالہ اور دھو ون ہی کھانے پینے کو ملے گا کہ الجزاء من جنس العمل کے اصول کا تقاضا یہی ہے۔ یہاں پر اس ضمن میں یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ انسان کا مال اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنے سے پاک ہوتا ہے۔ پس جو لوگ دنیا کے اس دارالعمل میں انفاق فی سبیل اللہ کی اس سعادت سے محروم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان کا مال نجاست و غلاظت کا ڈھیر بن جاتا ہے جس پر آج دنیا کے اس دارالامتحان میں پردہ پڑا ہوا ہے لیکن کل قیامت کے اس جہان غیب میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا ایسے بدبختوں کی سینت سینت کر رکھی گئی وہ پونجی اپنی اس اصل شکل میں سامنے آجائے گی جو کہ اوپر بیان ہوئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل سوء وزیغ و ضلال و انحراف۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
Top